30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فوضع عنی خمسا ، و جعلہا خمسا، فنادنی ملک عندہا : تمت فریضتی ، و خففت عن عبادی ، و اعطتیہم بکل حسنۃ عشر امثالہا ، ثم رجعت الی موسی ، فقال :بم امرت ؟ قلت : بخمس صلوات قال: ارجع الی ربک فسألہ التخفیف فانہ لا یؤودہ شیٔ فسلہ التخفیف لامتک فقلت رجعت الی ربی حتی استحییتہ ۔
ثم اصبح بمکۃ یخبرہم بالعجائب : انی اتیت البارحۃ بیت المقدس و عرج بی الی السماء و رأیت کذا ورأیت کذا ، فقال ابو جہل بن ہشا م : الاتعجبون مما یقول محمد ! یزعم انہ اتی البارحۃ بیت المقدس ، ثم اصبح فینا ، واحدنا یضرب مطیتہ مصعدۃ شہرا و منقلبۃ شہرا ، فہذا مسیرۃ شہرین فی لیلۃ واحدۃ قال فاخبرہم بعیر لقریش لما کان فی مصعدی رأیتہا فی مکان کذا و کذا وانہا نفرت فلما رجعت رأیتہا عند العقبۃ ، و اخبرہم بکل رجل و بعیرہ کذا و کذا ومتاعہ کذا وکذا ، فقال ابوجہل : یخبرنا باشیائ،فقال رجل من المشرکین انا اعلم الناس بیت المقدس و کیف بنآؤہ وکیف ھیأتہ وکیف قربہ من الجبل ، فان یکون محمد صادقا فساخبرکم وان یکن کاذبا فساخبرکم ، فجاء ہ ذلک المشرک فقال : یا محمد انا اعلم الناس بیت المقدس فاخبرنی کیف بناؤ ہ و کیف ہیأتہ وکیف قربہ من الجبل ؟ قال : فرفع لرسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بیت المقدس من مقعدہ فنظر الیہ کنظر احدنا الی بیتہ : بناؤہ کذا و کذا و ہیاتہ کذا و کذا ، وقربہ من الجبل کذا و کذا ، فقال الاخر: صدقت ، فرجع الی الصحابۃ فقال : صدق محمد فیما قال او نحوا من ہذا الکلام ۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! شب معراج کی تفصیل سے آگاہ فرمائیں ۔ حضور نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ۔
سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی الذی بارکنا حولہ لنریہ من آیاتنا ، انہ ہو السمیع البصیر ۔
پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا مسجد حرام سے مسجد اقصی تک ، جس کے گرد ا گرد ہم نے برکت رکھی کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں ، بیشک و ہ سنتا دیکھتا ہے۔
پھر حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کی تفصیل یوں ارشاد فرمائی : اس وقت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع