30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھنسے ہوئے ہیں ؟وہ فرمائیں گے: کہ آج میرے رب نے غضب کا اظہار فرمایا ہے کہ نہ اس سے پہلے ایسا
کیا اور نہ اس کے بعد کبھی ایسا کرے گا ۔ بیشک میں نے ایک آدمی کو جان سے مار دیا تھا جبکہ مجھے اس کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا ۔ لہذا مجھے اپنی فکرہے، مجھے اپنی فکر ہے ، مجھے اپنی فکرہے ، تم کسی اور کے پاس جاؤ ،تم حضرت عیسی علیہ السلا م کے پاس چلے جاؤ ،چنانچہ لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کریں گے :اے حضرت عیسی ! آپ اللہ تعالیٰ کے رسول اوراس کا ایک کلمہ ہیں جو اس نے آپ کی والدہ ماجدہ حضرت مریم کی جانب القا فرمایا تھا۔ نیز آپ اس کی جانب کی روح ہیں اور آپ نے پالنے کے اندر بچپن میں لوگوں سے باتیں کی تھیں، لہذا آپ ہماری شفاعت فرمائیں ، کیاا ٓپ دیکھتے نہیں کہ ہم کسی حال کو پہونچ گئے ہیں حضرت عیسی علیہ السلام فرمائیں گے: کہ آج میرے رب نے غضب کاو ہ اظہار فرمایا ہے کہ نہ اس سے پہلے ایساغضب فرمایا اور نہ اس کے بعد ایسا فرمائے گا ۔وہ اپنی کسی لغزش کا اظہار نہیں فرمائیں گے بلکہ فرمائیں گے مجھے اپنا اندیشہ ہے ،مجھے اپنا اندیشہ ہے ، مجھے اپنا اندیشہ ہے، تم کسی دوسرے کے پا س جاؤ ، اور تم محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حضور جاؤ ، چنانچہ لوگ حضور محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حضور حاضر ہو کر عرض گذار ہوں گے ، اے محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آپ انبیا ئے کرام میں سب سے آخری ہیں اور اس کے رسول ، اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے اگلوں اور پچھلوں کے گناہ معاف فرمادئیے تھے ،لہذا اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت فرمائیے ، کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا کہ ہم کس حال کو پہونچ گئے ہیں ۔پس میں اس کام کے لئے چل پڑونگا اور عرش اعظم کے نیچے آکر اپنے رب عزوجل کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤنگا ۔ پھر اللہ تعالی مجھ پر اپنی ایسی حمد یں اور حسن ثناء ظاہر فرمائے گا جومجھ سے پہلے کسی پر ظاہرنہیں فرمائی ہوںگی ۔ پھر مجھ سے فرمایاجائے گا اے محمد !اپنا سر اٹھا ؤ مانگو کہ تمہیں دیا جائے گا ، شفاعت کرو کہ تمہاری شفاعت قبول فرمائی جائے گی ، پس میں اپنا سر اٹھا کر عرض کروں گا : اے رب !میری امت ،میری امت ،پھر فرمایا جائے گا :اے محمد ! اپنی امت کے ان لوگوں کو جن کو ہمیں حساب نہیں لینا ہے باب ایمن سے داخل کردو جو جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اور وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ جنت میں دوسرے دروازوں سے بھی جا سکتے ہیں ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! بیشک جنت کے ہر دروازہ کی چوڑائی اتنی ہے جتنا مکہ مکرمہ اور حمیر کے درمیا ن فاصلہ ہے ، یامکہ معظمہ سے بصری جتنی دور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع