30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان امور میں لوگوں سے موافقت صحبت و معاشرت کی خوبی سے ہے ۔ اس لئے کہ مخالفت و حشت دلاتی ہے ۔ اور ہر قوم کی ایک رسم ہوتی ہے ۔ اور بالضرور لوگوں سے ان کی عادت کا برتاؤ کرنا چاہیئے۔ جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ۔ اور خصوصاًوہ عادتیں جن میں اچھا برتاؤ اور نیک سلوک اور موافقت کرکے دل خوش کرنا ہو۔ ایسے ہی مساعدت کی ساری قسمیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۱۰۳۔ المستدرک للحاکم ، ۱/۱۲۱ ٭ اتحاف السادۃ للزبیدی، ۶/۳۵۴
۲۱۰۴۔ کنز العمال للمتقی، ۵۲۳۰، ۳/۱۷ ٭ اتحاف السادۃ للزبیدی، ۶/۲۸۸
جبکہ ان سے دل خوش کرنا منظور ہو اور کچھ لوگوں نے وہ روش قرار دے لی ہو۔تو ان کے موافق ہو کر ان پر عمل کرنا کچھ مضائقہ نہیں رکھتا ۔بلکہ موافقت کرنا ہی بہتر ہے مگر جس امر میں شرع
سے ایسی نہی آگئی ہو جو قابل تاویل نہیں ۔
بیشک مقصود شرع کے یہ ہی موافق ہے ۔ مگر جن لوگوں کو مقاصد شریعت سے کچھ غرض نہیں ۔ اپنی ہوائے نفس کے تابع ہیں وہ خواہی نخواہی ذرا ذرا سی بات میں مسلمانوں سے الجھتے ہیں اور ان کے عادات و افعال کو جن پر شرع سے اصلاً ممانعت ثابت نہیںکر سکتے ممنوع و نا جائز قرار دیتے ہیں ۔ حاشا کہ ان کی غرض حمایت شرع ہو ۔ حمایت شرع چاہتے تو جن امور کی تحریم و ممانعت میں کوئی آیت و حدیث نہ آئی خواہ مخواہ بزور زبان انہیں گناہ و مذموم ٹھرا کر شرع
مطہر پر افتراء کیو ں کرتے ۔ صفائح اللجین،۵۳
(۶) آپس میں میل محبت سے رہو
۲۱۰۵۔عن انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : لا تبا غضوا، ولا تحاسدوا، ولا تدابروا، و کونوا عباد اللہ
اخوانا ۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آپس میں بغض و حسد نہ رکھو،اور دشمنی نہ کرو، اور اللہ تعالیٰ کے سچے بندہ
بن کر آپس میں برادرانہ سلوک رکھو۔ فتاوی رضویہ ،حصہ دوم ،۹/۶۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع