30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انت مبارک فادعہا الی اللہ ،وادع اللہ عزوجل لہا ، عسی ان یستنقذہابک من النار ،فدعا ہا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فاسلمت ، فاقاموا مع رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
شہرا وہم تسعۃ و ثلاثون رجلا ،وکان اسلام حمزۃ یوم ضرب أبی بکر۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی تعداد انتالیس ہو گئی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے اصرار کیا کہ اب ہم ظاہر ہوں اور علانیہ دعوت اسلام دیں ۔حضور نے فرمایا: اے ابو بکر !ہم ابھی قلیل تعداد میں ہیں لیکن حضرت صدیق اکبر اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ حضور مسجد حرام میں تشریف لائے اور مسلمان مسجد حرام کے مختلف گوشوں میں بیٹھ گئے۔حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مجلس اقدس میں سیدنا صدیق اکبر نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا ۔ آپ پہلے شخص ہیں کہ حضور کے سامنے جنہوں نے دعوت حق لوگوں کے سامنے پیش کی ۔آپ کی تقریر سن کر مشرکین آپ پر اور دیگر مسلمانوںپر ٹوٹ پڑے اور مسجد حرام کے مختلف گوشوں میں بیٹھے ہوئے مسلمانوں کو سخت اذیت پہونچائی۔ حضرت صدیق اکبر اس موقع میں سخت زخمی ہوئے ۔ عتبہ بن ربیعہ بدکار ناہنجار نے آپکو جوتوں سے مارنا
شروع کیا کہ آپ کے چہرہ اقدس پر کاری زخم لگا ۔ بنوتیم نے آکر مشرکین کو آپ سے دفع کیا اور ایک کپڑے میں ڈال کر آپ کو گھر تک پہونچایا ۔ آپکی شہادت میں کسی کو شبہ نہیں رہا تھا ۔ بنوتیم نے مسجد حرام میں آکر مشرکین کو مخاطب کر کے کہا : اگر ابوبکر کا انتقال ہو گیا تو ہم عتبہ کو زندہ نہیں چھوڑیں گے ۔ پھر ابوبکر صدیق کے پاس آئے ۔آپکے والد ابوقحافہ اور بنوتیم نے آپ سے کچھ پوچھ گچھ کی تو آپ نے جواب دیا ۔ شام کے وقت آپ نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا کیا حال ہے ۔ حاضرین نے آپکو اپنی زبانوں سے اشارہ کیا اور خاموش رہنے کی تاکید کی ۔ پھر جانے لگے تو آپکی والدہ ام الخیر سے بولے انکو کچھ کھلا پلا دینا ۔جب آپکی والدہ تنہا رہ گئیں اور کھانے پینے کے لئے اصرار کیا تو آپ بولے: پہلے یہ بتاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا کیا حال ہے ؟ بولیں : مجھے آپ کے دوست کا حال معلوم نہیں ہو سکا ۔ بولے: آپ ام جمیل بنت خطاب کے پاس جائیے اور ان سے معلوم کیجئے۔ یہ ام جمیل کے یہاں پہونچیںاور کہا : ابو بکرحضرت محمد بن عبد اللہ کے بارے میں معلوم کر رہے ہیں ۔ بولیں مجھے تو اب تک نہ ابو بکر کا حال معلوم ہے اور نہ حضرت محمد بن عبد اللہ کا ۔ہاں اگر آپ یہ چاہتی
ہیں کہ میںآپکے ساتھ آپکے بیٹے کے پاس چلوں تو میں حاضر ہوں ۔بولیں : ہاں ضرور ،وہ ان کے ساتھ گھر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع