30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے آپس میں تحیت کا تمام مصافحہ ہے ۔
{۴} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
یہاں من تبعیضیہ نہ لایا گیا کہ صرف ایک ہاتھ کا ذکر نہ تھا ۔جو ہنوز تمامی کا بقیہ باقی
ہو ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ صفائح اللجین ۱۵
(۶ )مصافحہ کے وقت مسکراہٹ
۲۰۶۴۔ عن أبی داؤد الاعمی قال : لقینی البرآء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۰۶۲۔ الجامع للترمذی استئذان ، ۳۱ ، باب ما جاء فی المصافحۃ ، ۲/۹۷
المسند لاحمد بن حنبل، ۵/۲۶۰ الجامع الصغیر للسیوطی، ۲/۵۰۳
۲۰۶۳۔ الجامع للترمذی ، باب ماجاء فی المصافحۃ، ۲/۹۷
۲۰۶۴۔ المعجم الکبیر للطبرانی،
فاخذ بیدی وصافحنی وضحک فی وجھی فقال : تدری لم اخذت بیدک ؟قلت: لا ، الاانی ظننت انک لم تفعلہ الا بخیر ،فقال : ان النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ
وسلم لقینی ففعل فی ذلک ۔
ابو دائود اعمی سے روایت ہے کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے ملے میرا ہاتھ پکڑا اور مصافحہ کیا اور میرے سامنے ہنسے ۔پھر فرمایا : کیا تو جانتا ہے کہ میں نے کیوں تیرا ہاتھ پکڑا ؟ میں نے عرض کی : نہ ، مگر اتنا جانتا ہوں کہ آپ نے کچھ بہتری کے لئے ہی ایسا کیا ہوگا۔ فرمایا :بیشک حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مجھ سے ملے تو حضور نے میرے ساتھ
ایسا ہی معاملہ فرمایا ۔
{۵} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
یہ حدیث قابل اعتماد نہیں، قطع نظر اس سے کہ یہ حدیث طبرانی پایۂ اعتبار سے ساقط
ہے۔ ابودائود اعمی رافضی سخت مجروح متروک ہے ۔ امام ابن معین نے اسے کاذب کہا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع