30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ضرور متحقق۔ تو اس کے مصافحہ ہونے سے ان کار پر کیا باعث۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۰۶۰۔ الجامع الصحیح للبخاری ، باب المصافحۃ،
الصحیح لمسلم ، باب التشہد فی الصلوٰۃ ،
رہا بعض جہلا کا کہنا : کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے تو ایک ہی ہاتھ تھا ۔ یہ محض جہالت اور ادعائے بے ثبوت ہے ۔ دونوں طرف سے دونوں ہاتھ ملائے جائیں تو ایک کا ایک ہی ہاتھ دوسرے کے دونوں ہاتھوں کے درمیان ہوگا ۔ نہ کہ دونوں ۔ وہو ظاہر جدا ۔ اور جب حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف سے دونوں ہاتھو ں کا ثبوت ہوا تو
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے ثبوت نہ ہونا کیا زیرنظر رہا۔ صفائح اللجین ۲۷
(۴) مصافحہ کی برکت
۲۰۶۱۔ عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : تصا فحوا ! یذہب الغل من قلوبکم ۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا : مصافحہ کیا کرو ! تمہارے سینے سے کینے نکل جائیں گے ۔
صفائح اللجین ص ۴۶
{۳} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
یہ حدیث بھی قابل احتجاج نہیں ۔
اولا۔ اس کی سند ضعیف ہے جس میں عن خیثمۃ عن رجل ، ایک مجہول واقع
ہے۔
ثانیاً ۔ امام المحدثین محمد بن اسمٰعیل بخاری نے یہ حدیث تسلیم نہ فرمائی ۔اور اس کے غیر محفوظ ہونے کی تصریح کی ۔،مسلمہ طائفی رحمۃ اللہ علیہ جن پر اس حدیث کا مدار ہے ۔کما فی الترمذی ، علماء محدثین ان کا حافظہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع