30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یا رسول اللہ ! میں ابھی جلدی زمانہ جاہلیت کو چھوڑ کر آغوش اسلام میں آیا ہوں ۔ مجھے یہ بتائیں کہ بعض لوگ نجومیوں کے پاس جاتے ہیں ، فرمایا : تو ان کے پاس مت جا ۔ میں نے مزید عرض کیا : بعض لوگ برا شگون لیتے ہیں ، فرمایا : یہ سب لوگوں کی اپنے دل کی گڑھی باتیں ہیں تو اس پرعمل نہ کر ۔ میں نے عرض کیا : بعض لوگوں کو میں نے دیکھا کہ لکیریں کھینچتے یعنی علم رمل کے ذریعہ پیش گوئی کرتے ہیں، فرمایا : یہ علم بعض انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ہے ، اب اگر کسی کا علم ان کے مطابق ہو تو درست ہے۔ حدیث کے راوی حضرت معاویہ کہتے ہیں : میری ایک باندی تھی جو احد پہاڑ اور جوانیہ بستی کے پاس بکریاں چراتی تھی ، ایک دن میں نے وہا ں جا کر دیکھا کہ ایک بکری کو بھیڑیا لے گیا ہے ۔ چونکہ میں ایک انسان ہوں اور لوگوں کی طرح مجھے بھی غصہ آ جاتا ہے لہذا میں نے غصہ میں اس کے ایک طمانچہ مار دیا ۔ پھر میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسو ل اللہ ! ایسا ایسا غصہ میں ہوگیا ، فرمایا: یہ تمہارا کام اچھا نہیں ، میں نے عرض کیا : کیا میں اس کو آزاد نہ کر دوں ؟ فرمایا : اس کو ہمارے پاس لیکر آؤ۔میں اس کو لیکر آپکی خدمت میں پہونچا ۔ آپ نے اس باندی سے پوچھا ، بتا اللہ کہاں ہے؟ بولی : آسمان میں ، یعنی اس کا جلوۂ خاص آسمانوں میں ہے ، فرمایا : میں کون ہوں ؟ بولی : آپ اللہ عزوجل کے رسول ہیںصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ، اس پر آپ نے فرمایا : اے معاویہ !اس
کو آزاد کردو کہ یہ ایمان والی ہے ۔ ۱۲م
۲۶۷۱۔عن أبی ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم َ ان المیت تحضرہ الملائکۃ ، فاذا کان الرجل الصالح قالوا :
اخرجی ایتہا النفس الطیبۃ ، کانت فی الجسد الطیب ، اخرجی حمیدۃ
والبشری بروح وریحان ورب غیر غضبان ،قال : فلا یزال یقال ذلک حتی
تخرج ، ثم یعرج بہا الی السماء فیستفتح لہا فیقال : من ہذا ؟ فیقال: فلان، فیقولون: مرحبا بالنفس الطیبہ کانت فی الجسد الطیب ادخلی حمیدۃ والبشری بروح وریحان ورب غیر غضبان ، قال : فلا یزال یقال لہا حتی
ینتہی بہا الی السماء التی فیہا اللہ عزوجل ۔ فتاوی رضویہ ۱۱/ ۲۵۴
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قریب المرگ شخص کے پاس فرشتے آتے ہیں ، اگر وہ بندہ صالح اور نیک تھا تو کہتے ہیں : اے پاک جان نکل ، تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع