30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۔ حضرت ابو بکرہ کہتے ہیں : میں نے یہود مدینہ میں ایک بچے کی ولادت کے بارے میں سنا تو میں حضرت زبیر بن العوام کو ساتھ لیکر پہونچا ۔ جیسے ہی ہم اس کے والدین کے پاس پہونچے تو ہم نے ان دونوں میں وہ اوصاف دیکھے جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بیان فرمائے تھے ۔ ہم نے ان دونوں سے کہا: کیا تمہار ا کوئی بچہ ہے ؟ وہ دونوں بولے : تیس سال تک ہمارے کوئی اولاد نہ ہوئی ۔ اب یہ کانا لڑکا پیدا ہو اہے جو بجائے منفعت بخش کے مضرت رساں
ہے اس کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل جاگتا ہے ۔
حضرت ابو بکرہ کہتے ہیں : پھر ہم وہاں سے واپس چلے آئے ۔ہم نے یہاں آکر دیکھا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم دھو پ میں زمین پر چادر اوڑھے لیٹے ہیں اور سونے کی آواز آہستہ آہستہ آرہی ہے ۔ تھوڑی دیر بعد انہو ں نے سر سے چادر ہٹائی اور فرمایا : تم دونوں نے کیا کہا ؟ہم نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا آپ نے ہماری باتیں سن لیں ، ارشاد فرمایا : ہاں، میری
آنکھیں سوتی ہیں اور دل جاگتا رہتا ہے ۔
{۲} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
مرقاۃ الصعود میں ہے ۔ دجال ابن صیاد کی بیدار ی فساد کے باعث تھی اور اس کو ایذا دینے کے لئے تھی کہ اس کا دل فسق و فجور کی باتوں کی طرف متوجہ ہو کر عقوبت میں مبتلا رہے ۔ جبکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا قلب اطہر معارف الہیہ اور بے شمار مصالح میں منہمک
ہوتا ہے اور یہ چیز آپ کے درجات کی بلندی اور رفعت کا باعث تھی ۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جب دجال ابن صیاد جیسے خبثاء کے دل کی بیداری بطور استدراج
جائز ہے تو حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے طفیل اکابر امت کے لئے کیوں جائز نہ ہوگی ۔
علامہ عبد الوہاب شعرانی ’’ الیوقیت والجواہر ‘‘ کی بائیسیوں فصل میں شیخ محمد مغربی سے
نقل کر کے فرماتے ہیں ۔
جو شخص صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی طرح حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دیدار کا دعوی کرے تو وہ جھوٹا ہے ۔ اور اگر صرف یہ دعوی کر ے کہ اس نے حضور کو اپنے دل سے دیکھا ہے اور اس کا دل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع