30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲۶۱۴۔
۲۶۱۵۔ السنن لا بن ماجہ، باب میراث الولاء ، ۲/۲۰۰
المسند لا حمد بن حنبل، ۶/ ۱۳۷
فقال : رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اعطو میراثہ من اہل قریتہ ۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ایک غلام آزاد شدہ نے انتقال فرمایا تو وارثین میں نہ کوئی اولاد تھی نہ قرابت دار ۔ حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کے ہم وطن کو ان کی میراث عطا
فرمائی ۔
۲۶۱۶۔ عن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان و ردان مولی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وقع من عذق نخلۃ فمات فاتی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بمیراثہ فقال : انظرو الہ ذاقرابۃ ، قالوا : ما لہ ذو قرابۃ قال :
فانظروہم شہر یا لہ فاعطوہ میراثہ یعنی بلد یا لہ ۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے آ زاد شدہ غلام حضرت وردان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھجورکے درخت سے گر کر انتقال کر گئے ۔ حضور کی خدمت میں ان کی میراث لائی گئی تو فرمایا : ان کے خاندانی لوگوں کو دیکھو!
عرض کیا : ان کا کوئی خاندانی نہیں ۔فرمایاان کے ہم وطن دیکھو اور انکو میراث دے دو۔
فتاوی رضویہ ۹/۲۶۰
{۱} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
ان دونوں حدیثوں کی نسبت علاء فرماتے ہیں کہ یہ عطافرمانا بطور تصدق تھا نہ بطور توریث ، اور خود حضور اقد س صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بذریعہ ولائے عتاقہ وارث نہ ہو ئے کہ
انبیائے کرام نہ کسی کے وارث ہوںاور نہ ان کا کوئی وارث مال ہو ۔ علیہم الصلو ۃ و التسلیم ۔ فتاوی رضویہ ۱۰/۳۸۳
(۴ )ایک قبیلہ کا وارث دوسرے کو قرار دیا جاسکتا ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع