30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لیتے ہیں یہاں تک کہ زمین و آسمان کے درمیان کا خلا بھر جاتا ہے ، جب وہاں سے فارغ ہوتے ہیں تو آسمان پر پہونچتے ہیں ۔ حضور فرماتے ہیں : پھر اللہ تعالیٰ علیم وبصیر ہونے کے باوجود پوچھتا ہے تم کہاں سے آئے ؟ کہتے ہیں : ہم تیرے ان بندوں کے پاس سے آئے جو تیری پاکی بیان کر رہے تھے ، تیری بڑائی ، توحید اور حمد و ثنا میں رطب اللسان تھے اور تجھ سے دعا میں مشغول ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وہ مجھ سے کس چیز کی دعا کر رہے تھے ؟ عرض کرتے ہیں : تجھ سے تیری جنت کو مانگ رہے تھے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے : کیا
انہوں نے میری جنت کودیکھا ہے ؟ عرض کرتے ہیں : نہیں اے ہمارے رب ! فرماتا ہے : تو میری جنت کو دیکھ لیں تو ان کی کیا حالت ہوگی ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں اور وہ تیری پناہ تلاش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۵۷۲۔ الصحیح لمسلم، باب فضل مجالس الذکر ۲/۳۴۴
کر رہے تھے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : کس چیز سے میری پناہ ڈھوند رہے تھے؟ کہتے ہیں : تیری دوزخ سے ، فرماتا ہے : کیا انہوں نے میری دوزخ کو دیکھا ہے ؟ عرض کرتے ہیں: نہیں ۔ فرماتا ہے پھر کیا حال ہو ان کا اگر وہ اس کو ایک نظر دیکھ لیں ؟ عرض کرتے ہیں وہ تجھ سے مغفرت چاہ رہے تھے ، فرماتا ہے: میں نے ان سب کی مغفرت کر دی اور جو مانگا تھا وہ دیا اور جس چیز سے پناہ چاہ رہے تھے میں نے انکو عطا کی عرض کرتے ہیں : اے رب کریم ! ان میں ایک شخص خطا کار بھی تھا جو اس مجلس کے پاس سے گزرتے ہوئے ان کے پاس بیٹھ گیا تھا ۔ فرماتا ہے: میں نے
اس بھی کو بخشا کہ وہ ایسی جماعت ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بھی بدبخت و محروم نہیں رہتا ۔ ۱۲م
۲۵۷۳۔ عن امیر المؤمنین عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان اللہ تعالیٰ یقول : من شغلہ ذکری عن
مسئلتی اعطیتہ افضل ما اعطی السائلین ۔
امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے جسے میری یاد میرے مانگنے سے باز
رکھے میں اسے بہتر اس عطا کا بخشونگا جو مانگنے والے کو دوں ۔
ذیل المدعا ص ۱۱۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع