30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثم اقول: سجدے بلکہ قیام کے سوا نماز کے کسی فعل میں قرآن عظیم کی تلاوت
حدیث و فقہ دونوں سے منع ہے یہاں تک کہ سہواً پڑھے تو سجدہ لازم ، اور عمدا پڑھے تو اعادہ و اجب تو ضرور ہے کہ فاتحہ ، آیۃ الکرسی جو سجدے میں پڑھی جائیں گی ان سے ثنائے الہی کی نیت کرے نہ قرآن عظیم کی تلاوت کی ، نیز واضح رہے کہ نوافل مطلقہ میں ہر دو رکعت نماز جداگانہ
ہے ، تو جتنی رکعات ایک نیت سے پڑھی جائیں ہر قعدہ میں التحیات کے بعد درود و دعا سب
کچھ ہو ، اور ہر تیسری کے اغاز میں سبحانک اللہم و اعوذ بھی ہو ۔
ثم اقول ـ: ہمارے ائمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے نزدیک ایک نیت میں دن کو چار رکعت
سے زیادہ مکروہ ہے ، اوررات کو آٹھ سے زائد ، و ظاہر اطلاق الکراہۃ کراہۃ التحریم ، وقد نص فی رد المحتار علی انہ لا یحل فعلہ ، مگر دن کی کراہت متفق علیہ اور رات کی کراہت میں اختلاف ہے ۔ امام شمس الائمہ سرخسی نے فرمایا : رات کو آٹھ سے زیادہ بھی مکروہ نہیں ۔ فتاوی خلاصہ میں اسی کو صحیح کہا َ، و عا متہم علی الکراہیۃ و صححہا فی البدائع ۔
تو یہ نماز اگر ہو شب میں ہو کہ ایک تصحیح پر کراہت سے محفوظ رہے ۔
ذیل المدعا ص ۱۷۹
(۳) اللہ تعالیٰ کی محبوب دعا
۲۵۶۸۔ عن أبی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ما من دعا ء احب الی اللہ تعالیٰ من ان یقول العبد : اللہم اغفر لامۃ
محمد رحمۃ عامۃ ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کو کوئی دعا اس سے زیادہ محبوب نہیں کہ آدمی عرض کرے ۔ الہی ! امت
محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر عام رحمت فرما ۔
ذیل المدعا ص ۲۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع