30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اتحاف السادۃ للزبیدی ، ۵/۴۴ ٭
وقوفوں کو نہ سکھائو کہ وہ اس کے ذریعہ دعا کریں گے تو قبول ہوگی ۔ ذیل المدعا ص۱۷۶
{۴} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
احمد بن حرب و ابراہیم بن علی ، اور ابو ذکر یا و حاکم نے کہا : ہم نے اس کا تجربہ کیا تو حق پایا ؛فقیر کہتا ہے : غفر اللہ تعالیٰ لہ ، فقیر نے بھی چند بار تجربہ کیا ، تیر بے خطا پایا ۔ یہاں تک کہ بعض اعزہ کے مرض کو امیداد شدید و اشتداد مدید ہو ا حتی کہ ایک روز بالکل نزع کے آثا ر طاری ہوگئے۔ سب اقارب رونے لگے ۔ فقیر ان سب کو روتا چھوڑ کر دروازہ کریم پر حاضر ہوا ، یہ نماز پڑھی اس کے بعد مریض کی طرف چلا اور وسوسہ تھا کہ شاید خبر نوع دگر سننے میں آئے ، وہاں گیا تو بحمد اللہ تعالیٰ مریض کو بیٹھا باتیں کرتا پایا ۔ مرض جاتا رہا اور چند روز میں قوت بھی آگئی ۔ وللہ
الحمد۔
فائدہ :ـ یہ حدیث ابن عساکر نے بہ روایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کی ، مگر اتنا فرق ہے کہ اس میں اس نماز کا وقت بعد مغرب معین کیا ، اور فاتحہ و آیۃ الکرسی و کلمہ مذکور پڑھنے کے لئے بارہویں رکعت کا پہلا سجدہ اور دعا ’’ اللہم انی اسئلک ‘ پڑھنے کو اس کا دوسرا سجدہ رکھا ، نہ یہ کہ بعد ’التحیات ‘ کے سلام سے پہلے ایک سجدہ جدا گانہ
میں پڑھی چائیں ۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم ۔
اقول : مگر ہمارے جمہور ائمہ لفظ اسئلک بمعاقد الغرمن عرشک ، کو منع فرماتے
ہیں ۔ ہدایہ و قایہ و تنویر الابصار و در مختا ر و شرح جامع صغیر امام قاضی خان و تمرتاشی و محبوبی وغیرہا
کتب فقیہ میں اس کی ممانعت مصرح ،
علامہ ابن امیر الحاج نے حلیہ میں تصریح فرمائی کہ ، یوں کہنا مکروہ تحریمی قریب بحرام قطعی ہے ۔ اور یہ حدیث بشدت ضعیف ہے کہ اس باب میں ہر گز قابل استناد نہیں ہو سکتی ۔ تو ان
ترکیبوں سے یہ لفظ کم کردینا ضروری ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع