30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عورت کی نسبت صحیح حدیث سے ثابت کہ ٹیڑھی پسلی سے بنی ہے ، اس کی کجی ہر گز نہ جائے گی ، سیدھا کرنا چاہو تو ٹوٹ جائے گی ۔ اور اس کا ٹوٹنا یہ ہے کہ طلاق دے دی جائے ۔ پس یا تو آدمی اس کی کجی پر صبر کرے یا طلاق د ے د ے۔ کہ نہ طلاق دیتا ہے ، اور نہ صبر کرتا
ہے بلکہ بد دعا دیتا ہے تو قابل قبول نہیں ۔
یونہی جب گوا ہ نہ کئے خود اپنا مال مہلکہ میں ڈالا ۔ اور سفیہ کو دینا بربادی کے لئے پیش کرنا ہے ۔ پھر دانستہ مواقع مضرت میں پڑ کر یہ خلاصی مانگنا حماقت ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ
خویشتن کرد ہ را علاجے نیست ۔ فقیر کے خیال میں ظاہر ا معنی حدیث یہ ہے و اللہ تعالیٰ اعلم
فقیر نے اس تحریر کے چند روز بعد الاشباہ و النظائر میں دیکھا ، کہ فوائد شتی میں محیط کی
کتاب الحجر سے یہ تین شخص نقل کئے کہ ان کی دعا قبول نہیں ہوتی ۔
علامہ ہموی نے غمزالعیون و البصائر میں احکام القرآن امام ابو بکر جصاص سے نقل کیا : کہ ضحاک نے اپنے دین پر گوا ہ نہ کرنے والے کی نسبت کہا: ان ذہب حقہ لم یؤجر،وان
دعا علیہ لم یجب ، لانہ ترک حق اللہ تعالیٰ و امرہ ۔
یعنی اگر اس کا حق مارا گیا تو کچھ اجر نہ پائے گا اور اگر مدیون پر بد دعا کرے تو قبول نہ ہوگی کہ اس نے اللہ عزوجل کا حق چھوڑا اور اس کے امر کا خلاف کیا ۔ یعنی قولہ تعالیٰ واشہدوا اذا تبایعتم ۔ اور خرید و فروخت پر گواہ بنالو ۔ یہ تعلیم بحمدہ تعالیٰ اس معنی کی مؤید ہے جو فقیر نے
سمجھے یعنی ان کی دعا قبول نہ ہو نا خاص اسی بارے میں ہے ۔
ذیل المدعا ص ۷۳
(۱۰) تین مقامات پر دعا مقبول ہے
۲۵۵۳۔ عن ربیعۃ بن وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ثلثۃ مواطن لا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع