30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ۔ اور ایسا ہی منقول ہے حضرت بتول زہراء صلوات اللہ و سلامہ علی أبیہا و علیہا سے ۔اور یہ ہی مذہب ہے امام شافعی و امام محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا ۔ اور امام اسحاق بن راہویہ و ابن الزملکائی ، اور ان کے تلمیذ علائی وغیرہم علماء کا ۔ امام ابو عمر و بن عبد البر نے فرمایا : اس باب میں اس سے ثابت تر کوئی قول نہیں۔فاضل علی قاری نے کہا: یہ تمام اقوال سے زیادہ لائق اعتبار ہے ۔ امام احمد فرماتے ہیں :
اکثر احادیث اسی پر ہیں ۔ و لہذا حضرت والد ماجد قدس سرہ نے اسی کو اختیار فرمایا ۔
دوسرا قول جب امام منبر پر بیٹھے ۔ اس وقت سے فرض جمعہ کے سلام تک ساعت موعودہ ہے ۔ یہ حدیث مرفوع أبی موسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں منصوص ہوا ۔ امام مسلم نے فرمایا : یہ سب اقوال سے اصح اور احسن ہے ۔ اسی کو امام بیہقی و امام ابن العربی و اما م قرطبی نے اختیار
کیا۔
امام نووی نے فرمایا : یہ ہی صحیح بلکہ صواب ہے ۔ اور اسی طرح روضہ و در مختار میں اس کی
تصحیح کی ۔
دلائل طرفین فتح الباری وغیرہ میں مبسوط ۔ اور انصاف یہ ہے کہ دونوں جانب کافی قوتیں ہیں ۔ طالب خیر کو چائیے کہ دونوں وقت دعا میں کوشش کرے ۔ یہ طریقہ جمع کا امام احمد وغیر ہ اکابر سے منقول ۔اور بیشک اس میں امید اقوی و اتم ، اور مصادفت مطلوب کی توقع اعظم ،
واللہ سبحانہ و تعالیٰ ۔
میں کہتا ہو : اس دوسرے قول پر اس مأبین میں دعا دل سے ہوگی ۔ یا زبان سے دعا کا موقع بعد التحیات و درود کے ملے گا ۔ خواہ جلسہ بین السجدتین میں جبکہ امام بھی وہاں قدرے
توقف کرے ۔ فافہم ذیل المدعا ص ۴۷
(۳) عرفہ کے دن دعا بہتر ہے
۲۵۱۹۔ عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ان النبی
صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال : خیرا لدعا دعا ء یوم عرفۃ ۔
حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ تعالی ٰعنہ سے بطریق عن أبیہ عن جدہ روایت ہے کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع