30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیج دیا اور حکم فرمایا : کہ کوئی مسلمان اس کے پاس نہ بیٹھے ۔ وہ جدھر گزرتا اگر سو آدمی بیٹھے ہوتے سب متفرق ہو جاتے یہاں تک کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے عرضی بھیجی کہ یا امیر المؤمنین ! اس کا حال صلاح پر ہے ۔ اس وقت مسلمانوں کو ان کے پاس
بیٹھنے کی اجازت فرمادی ۔
پھر صحت توبہ اور اطمینان کتنی مدت میں حاصل ہوتا ہے صحیح یہ کہ اس کے لئے کوئی مدت معین نہیں کر سکتے ، جب اس شخص کی حالت کے لحاظ سے اطمینان ہو جائے کہ اب اس کی
اصلاح ہوگئی ۔ اس وقت اس سے دو قسم اخیر کے معاملات بر طرف ہوں گے ۔ ظاہر ہے کہ یہ بات نظر بحالات مختلف ہو جاتی ہے ۔ ایک سادہ دل وراست گو سے کوئی گناہ ہوا اس نے توبہ کی ، اس کے صدق پر جلد اطمینان ہو جائے گا اور دروغ گو مکارکی توبہ پر اعتبار نہ کریں گے اگر چہ
ہزار مجمع میں تائب ہو۔ فتاوی رضویہ حصہ اول ۹/۲۵۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع