30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الصحیح لمسلم، با ب النھی عن ہک الانسان ستر نفسہ ، ۲/ ۴۱۲
مجمع الزوائد للہیثمی، ۱۰/ ۱۹۲ ٭ اتحاف السادۃ للزبیدی ، ۶/ ۱۷۲
المعجم الصغیر للطبرانی ، ۱/۲۲۷ ٭ التمہید لا بن عبد البر ، ۵/۳۳۹
الدر المنثور للسیوطی، ۸/ ۳۳۰ ٭ کنز العمال للمتقی ، ۱۰۳۳۷، ۴/۲۳۹
فتح الباری للعسقلانی، ۱۰/ ۱۶۱ ٭ المغنی للعراقی ،۔ ۲/۱۹۹
۲۴۲۹۔ مسند الفردوس للدیلمی، ۴/ ۹۶ ٭ کنز العمال للمتقی، ۱۰۳۷۱
کریںگے ۔اور جب علانیہ گناہ کرینگے تو عذاب دوزخ خود اپنے اوپر واجب کریںگے۔۱۲م
فتاوی رضویہ حصہ اول ۹/۲۵۶
اعلان گناہ پر باعث نفس کی جرأت و جسارت ، اور سرکشی و بے حیائی ہے ، اور مرض کا اعلاج ضد سے ہوتا ہے ، جب مسلمانوں کے مجمع میں اپنی بدی و شناعت پر اقرار لائے گا تو اس
سے جو انکسار پیدا ہوگا اس سرکشی کی دوا ہوگا ۔
فکر حاضر میں اس وقت اتنی حکمتیں خیال میں آئیں ،اور شریعت مطہر ہ کی حکمتوں کو کون حصر کرسکتا ہے ؟ ان میں اکثر وجوہ یہ چاہتے ہیں کہ جن جن لوگوں کے سامنے گناہ کیا ہے ان سب کے مواجہ میں توبہ کرے ۔ مگر یہ کثرت مجمع کی حالت میں مطلقا اور بعض صور میں ویسے بھی حرج سے خالی نہیں ، اور حرج مدفوع بالنص ہے ۔ تاہم اس قدر ضرور چاہیئے کہ مجمع توبہ مجمع گناہ کے مشابہ ہو۔ سب میں ادنیٰ درجہ کا اعلان اگرچہ دو کے سامنے بھی حاصل ہو سکتا ہے ۔ مگر وہ مقاصد شرع یہاں بے مشاکلت و مشابہت حاصل نہ ہوںگے ۔ و لہذا علامہ منادی نے فیض القدیر میں اس حدیث(اعلانیہ توبہ کرنے والی) کی شرح میں لکھا ۔ احدث عندہا توبۃ
تجانسہا مع رعایۃ المقابلۃ و تحقق المشاکلۃ مختصرا۔
سو کے سامنے گناہ کیا اور ایک گوشہ میں دو کے آگے اظہار توبہ کر دیا تو اس کا اشتہار مثل اشتہار گناہ نہ ہوا ، اور وہ فوائد کہ مطلوب تھے پورے نہ ہوئے ۔ بلکہ حقیقۃ وہ مرض کہ باعث اعلان گناہ تھا توبہ میں کمی اعلان پر بھی وہی باعث ہے کہ گناہ تو دل کھول کر مجمع کثیر میں کر لیا اور
اپنی خطا پر اقرار کر تے عار آتی ہے ۔
چپکے سے دو تین کے سامنے کہہ لیا وہ انکسار کہ مطلوب شرع تھا حاصل ہونا در کنار ہنوز خود داری و استنکاف باقی ہے ۔اور جب واقع ایسا ہو تو حاشا توبۂ سر کی بھی خیر نہیں کہ وہ ندامت
صادقہ چاہتی ہے اور اس کا خلوص مانع استنکاف ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع