30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہاں سے ہٹا دے گا ۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا یا اللہ ! میرے والدین بوڑھے تھے، ساتھ ہی میری بیوی اور بچے بھی تھے ، میں ان کے گذارے کے لئے بھیڑ بکریاں چراتا اور شام کو آکر دودھ دوہتا ، پہلے اپنے والدین کو پلاتا تھا ۔ ایک دن مجھے بکریوں کے لئے چارہ لانے کے لئے دور جانا پڑا ، میں جب گھر آیا تو رات ہو چکی تھی اور میرے والدین اس وقت تک سو گئے تھے ۔ میں نے حسب معمول دودھ دوہا اور اس کو لیکرماں باپ کے سرہانے آکر کھڑا ہوگیا ، میں نے نہ چاہا کہ انکو نیند سے بیدا کروں ، اور یہ بھی گوارہ نہ ہو ا کہ اپنے بچوں کو پہلے پلادوں حالانکہ وہ بھوک کی وجہ سے میرے قدموں پر لوٹ رہے تھے ، اسی حال میں پوری رات گذر گئی اور صبح نمودار ہوگئی ۔ یا اللہ تو خوب جانتا ہے ، اگر میں نے یہ کام تیری رضا کیلے کیا تھا تو اس پتھر سے ایک روزن کھولدے جس سے ہم آسمان کودیکھ سکیں ۔رب کریم نے اپنے فضل اور اس کے نیک عمل کی بدولت روزن کھول د یا اور اب انکو آسمان نظر آنے لگا ۔ دوسرے شخٓص نے عرض کیا : یا اللہ ! میرے چچا کی بیٹی تھی جس پر میں فریفتہ ہو گیا تھا میں نے اس سے خواہش ظاہر کی کہ اپنا نفس میرے حوالے کر دے لیکن اس نے سو اشرفیوں کے بغیر رضا مندی ظاہر نہ کی۔ میں نے نہایت کوشش کرکے سو اشرفیاں کمائیں اور لیکر پہونچا ۔ جب میں بد کاری کے ارادہ سے اس کی ٹانگو ں کے درمیان بیٹھا تو بولی : اے خدا کے بندے ! اللہ سے ڈر اور بغیر حق مہر مت توڑ ۔ یہ سن کر میں اٹھ کھڑا ہو ا ، یا اللہ ! تو خوب جانتا ہے ، اگر میں نے یہ کام تیری رضا و خوشنودی کے لئے کیا تو ایک روزن اور کھول دئے ، اللہ تعالیٰ نے اس پتھر کو اور ہٹا دیا ۔ تیسرے شخص نے دعا کی : یا اللہ ! میں نے ایک شخص کو مزدور کیا کہ وہ ایک فرق چاول پر میرا کام کردے ، جب وہ کام کرچکا تو میرے پاس مزدوری لینے آیا ، میں نے حسب وعدہ وہ چاول اس کو دئے لیکن اس نے انکار کردیا کہ اس کی نظر میں کم تھے ۔ وہ چلا گیا تو میں نے ان چاولوں کو زراعت کے ذریعہ بڑھایا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں اتنی برکت کی کہ ایک جنگل میں گائے بیل اور ان کی حفاظت کے لئے چراوہے سب اسی کے منافع سے جمع ہوگئے ۔ وہ مزدور پھر آیاا ور بولا : اللہ تعالیٰ سے ڈر اور میر ا حق مت مار ، میں نے کہا : جا اور بیل گائے نیز چراوہے سب تیرے ہیں وہ بولا خدا سے ڈر اور مجھ سے ہنسی مذا ق مت کر ، میں نے کہا : نہیں واقعی ان سب کا تو ہی حقدار ہے ۔ انکو لیجا ، وہ لے گیا ، یا اللہ ! تو خوب جانتاہے کہ یہ کام میں نے تیری رضا کے لئے کیا تھا تو پتھر کا جو حصہ غار پر رہ گیا ہے اس کو بھی ہٹا دے ۔ تو اللہ
تعالیٰ نے اسے بھی ہٹا دیا اور یہ سب آزاد ہوگئے ۔ ۱۲م
فتاوی رضویہ حصہ اول ۹/۱۸۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع