30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرنے والا نہیں پایا ۔ ۱۲م
{۲} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
مگر یہ حدیث بشدت ضعیف ہے ۔ حتی ان ابا الفرج او ردہ علی عادتہ فی الموضوعات ، یہاں تک کہ ابو الفرج ابن جوزی نے اپنی عادت کے مطابق اس کو موضوعات میں شمار کیا ۔ و الصواب کما بینہ الامام السیوطی و اقتصر علیہ الحافظ ابن حجر و غیرہ انہ ضعیف فقط تفردبۃ یوسف بن زیادہ الواسطی ۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ صرف ضعیف ہے جیسا کہ علامہ سیوطی نے بیان فرمایا ۔ اور حافظ ابن حجر نے بھی اسی پر اقتصار کیا ۔ اس کی سند میں یوسف بن زیاد واسطی یک و تنہاہیں ۔ جو ضعیف ہیں ۔ ہاں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ
وسلم کا اسے خریدنا بسند صحیح ثابت ہے ۔
۱۹۵۴۔ عن سوید بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : اتانا النبی صلی اللہ تعالیٰ
علیہ وسلم فساومنا سراویل ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۹۵۳۔ المسند لا بی یعلی ٭ فتح الباری للعسقلانی ، ۱۰/۲۷۳
السلسلۃ الضعیفۃ للالبانی ، ۸۹ ٭ الموضوعات لا بن الجوزی ۳/ ۴۷
۱۹۵۴۔ السنن لا بن ماجہ ، باب لبس السراویل ، ۲/۲۶۴
السنن للنسائی باب الرجحان فی الوزن ۲/ ۱۹۵
حضرت سوید بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ
علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم سے پاجامہ خریدا ۔ ۱۲م
۱۹۵۵۔ عن أبی صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : بعت من رسول اللہ صلی اللہ
تعالیٰ علیہ وسلم سراویل قبل الہجرۃ فارجح۔
حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ہاتھ ہجرت سے پہلے پاجامہ فروخت کیا تو آپ نے مجھے معینہ قیمت سے زیادہ
عنایت فرمائی ۔ ۱۲م
{۳} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع