30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت اقد س میں ایک صاحب نے حاضر ہو کر عرض کی : یا رسول اللہ ! سب سے زیاد ہ کون اس کا مستحق ہے کہ میں اس کے ساتھ نیک رفاقت کروں ؟ فرمایا : تیری ماں ، عرض کی : پھر؟
فرمایا :تیری ماں ، عرض کی: پھر؟ فرمایا: تیری ماں ، عرض کی : پھر ؟ فرمایا : تیر ا با پ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۳۴۷۔ المستدرک للحاکم، ۴/ ۱۷۵
۲۳۴۸۔ الجامع ا لصحیح للبخاری ، باب من احق الناس الصحیحۃ ، ۲/ ۸۸۳
الصحیح لمسلم، کتاب البردا الصلۃ ، ۲/ ۳۱۲
۲۳۴۹۔ عن أبی سلامۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: اوصی الرجل بامہ ، اوصی الرجل بامہ ، اوصی الرجل بامہ ،
اوصی الرجل بأبیہ ۔
حضرت ابو سلامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں آدمی کو وصیت کرتا ہوں اس کی ماں کے حق میں ، میں وصیت کرتا ہوں اس کی ماں کے حق میں ، میں وصیت کرتا ہوں اس کی ماں کے حق میں میںوصیت کرتا ہوں اس
کے باپ کے حق میں۔
{۳} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
مگر اس زیادت کے یہ معنی ہیں کہ خدمت دینے میں باپ پرماں کو ترجیح دے ،
مثلًا سو روپے ہیں اور کوئی خاص وجہ مانع تفضیل مادر نہیں تو باپ کو پچیس د ے اور ماں کو پچھتر ، یا ماں باپ دو نوں نے ایک ساتھ پانی مانگا تو پہلے ماں کو پلائے پھر باپ کو ، یا دونوں سفر سے آئے ہیں پہلے ماں کے پائوں دبائے پھر باپ کے ، و علی ہذالقیاس ۔ نہ یہ کہ اگر والدین میں باہم تنازع ہو تو ماں کا ساتھ دے کر معاذ اللہ باپ کے درپئے ایذا ہو یا اس پر کسی طرح درشتی کرے ، یا اسے جواب دے یا بے ادبانہ آنکھ ملا کر بات کرے ، یہ سب باتیں حرام ہیں اور اللہ عزوجل کی معصیت ۔ اور اللہ تعالیٰ کی معصیت میں نہ ماں کی اطاعت نہ باپ کی ۔ تو اسے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع