30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تاریخ دمشق لا بن عساکر ، ۲/ ۴۵۶ ٭
المصنف لا بن أبی شیبۃ ، ۷/ ۱۵۸ ٭ المسند للعقیلی، ۲/ ۲۳۴
الکامل لا بن عدی، ۲/ ۳۳۵ ٭ جمع الجوامع للسیوطی، ۴۴۹۴
تاریخ بغداد للخطیب ، ۱۲/ ۴۹ ٭ مشکل الاثار للطحاوی ، ۲/ ۲۳۰
المعجم الصغیر للطبرانی، ۱/ ۸ ٭ جامع مسانید أبی حنفۃ ، ۱۵۹
۲۳۴۳۔ دلائل النبوۃ للبیہقی، ۶/ ۳۰۴ ٭
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ادعہ لی ،قال : فجاء فقال رسول اللہ
صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم :ان ابنک یزعم انک تاخذ مالہ فقال : سلہ ، ہل ہو الا عماتہ او قراباتہ او ماانفقہ علی نفسی و عیالی ، قال : فہبط جبرئیل الامین علیہ الصلوۃ و السلام ، فقال : یا رسول اللہ ! ان الشیخ قد قال فی نفسہ شیٔا لم تسمعہ اذناہ ، فقال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : قلت فی نفسک شیأ لم تسمعہ اذناک قال : لا یزال یزید نا اللہ بک بصیرۃ و یقینا ، نعم ، قلت : قال : ہات
فانشأ یقول :
غَذَوْتُکَ مَوْلُوْدًا وَ عَلَتْکَ یَافِعًا ٭ تُعَلُّ بِمَا أجْنِی عَلَیْکَ وَ تُنْہَلٗ
اِذَا لَیْلَۃٌ ضَاقَتْکَ بِالسُّقْمِ لَمْ أبِتْ ٭ لِسُقْمِکَ اِلَّا سَاہِرًا أتَمَلْمَلٗ
تَخَافُ الرَّدٰی نَفْسِی عَلَیْکَ وَ اِنَّہَا ٭ لَتَعْلَمُ أنَّ الْمَوْتَ حَتَمٌ مُؤکَلٗ
کَأنِّی أنَا الْمَطْرُوْقُ دُوْنَکَ بِالَّذِی ٭ طُرِقْتَ بہٖ دُوْنِی فَعَیْنَایَ تَہْمَلٗ
فَلَمَّا بَلَغْتَ السِّنَّ وَ الْغَایَۃَ الَّتِی ٭ اِلَیْکَ مَدٰی مَا کُنْتُ فِیْکَ اُؤ مِّلٗ
جَعَلْتَ جَزَائِی غِلْظَۃً وَ فَظَا ظَۃً ٭ کَأنَّکَ أنْتَ الْمُنْعِمُ الْمُتَفَضِّلٗ
فَلَیْتَکَ اِذَا لَمْ تَرَعْ حَقَّ اُبُوَّتِی ٭ کَمَا یَفْعَلُ الْجَارُ الْمُجَاوِرُ تَفْعَلٗ
قال : فبکی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و اخذ بتلبیب ابنہ و
قال : انت ومالک لأبیک ۔
حضرت عبد اللہ بن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرے با پ میرا مال لینا چاہتے ہیں ۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انہیں ہمارے حضور میں حاضر لائو ، جب حاضر ہوئے ان سے ارشا د ہوا ۔ تمہارا بیٹا کہتا ہے : تم اس کا مال لے لینا چاہتے ہو ، عرض کی : حضور اس سے پوچھ دیکھیں کہ میں وہ مال لیکر کیا کرتا ہوں ،یہ ہی اس کی پھوپھیوں کی مہمانی اور اس کی قرابتی میں ، یا میرا اور میرے بال بچو ں کا خرچ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع