30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتاوی رضویہ حصہ دوم ۹/۷۲
(۶) عورت بغیر محرم سفر نہ کرے
۲۳۰۸۔ عن أبی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم لا یحل لا مرأۃ تومن باللہ و الیوم الآخر ان تسافر مسیرۃ یوم و
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۳۰۷۔ الصحیح لمسلم، باب تحریم الخلوۃ جنبیۃ ، ۲/ ۲۱۶
المسند لا حمدبن حنبل، ۴/ ۱۴۹ ٭ المعجم الکبیر للطبرانی ، ۱۷/ ۲۷۷
المصنف لا بن أبی شیبۃ ، ۴/ ۴۰۹ ٭ السنن الکبری للبیہقی ، ۷/ ۹۰
الجامع للترمذی ، باب ما جا ء فی کراہیۃ الدخول علی المغیبات ، ۱/ ۱۳۹
۲۳۰۸۔ الجامع للترمذی، باب ما جاء فی کراہیۃ ان تسافر المرأۃ، ۱/ ۱۳۹
السنن لا بی داؤد، مفاتک ، ۳، باب فی المرأۃ لحج بغیر محرم، ۱/ ۲۴۱
الترغیب والترہیب للمنذری ، ۴/ ۷۲ ٭ تاریخ بغداد للخطیب ، ۸/ ۲۰۴
شرح السنۃ للبغوی ، ۴/ ۱۷۲ ٭
لیلۃ ، فی روایۃ ان تسافر ثلثہ ایام الاو معہا زوجہا او ذورحم محرم منہا ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حلال نہیں کسی عورت کو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے کہ و ہ ایک منزل اور ایک روایت میں ہے کہ تین منزل سفر کو جائے جب تک ساتھ میں شوہر یا وہ رشتہ
دار نہ ہو جس سے ہمیشہ ہمیشہ نکاح حرام ہے ۔
{۱} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
اگر عورت حج کو جانا چاہے تو اس پر لازم ہے کہ اپنے کسی محرم کو ساتھ لے ، یا حج سے
واپسی تک کے لئے نکاح کرے اگر چہ ستر اسی سال والے سے ہو جو اس کے ساتھ آئے جائے ۔مقصود صرف یہ ہے کہ بے محرم یا شوہر کے جاناصادق نہ ہو ۔ باقی مقاصد زوجیت ہونے نہ ہونے سے بحث نہیں ۔ اور اگر اندیشہ ہو کہ بعد واپسی طلاق نہ دے تو نکاح یوں کیا جائے کہ عورت کہے :میں نے اپنے نفس کو تیرے نکاح میں دیا اس شرط پر کہ جب تو مجھے حج کو لیجائے اور واپس آئے تو واپس اپنے مکان پہونچتے ہی مجھ پر طلاق بائن ہو ۔ مرد کہے: میں نے قبول کیا اس شرط پر کہ جب میں تجھے حج کو لیجائوں الی آخرہ۔ یوں اگر وہ ساتھ نہ جائے تو طلاق ہو جائے گی ۔اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع