30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲۲۲۲۔ السنن لابن ماجہ باب من ادان دینار الخ، ۲/۱۷۳
۲۲۲۳۔ المسند لاحمد بن حنبل، ۱/۱۹۸ ٭
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال : یدعو اللہ بصاحب الدین یوم القیامۃ
حتی یوقف بین یدیہ ، فقال : یا ابن آدم! فیم اخذت ہذا الدین ؟ و فیم ضیعت حقوق الناس ؟ فیقول: یارب! انک تعلم انی اخذ تہ فلم آکل ، و لم ا شرب، و لم البس ، ولم اضیع ، ولکن اتی علی یدی اما حرق ، واما سرق و اما وضیعۃ ، فیقول اللہ عزوجل : صدق عبدی، انا احق من قضی عنک الیوم ، فیدعو اللہ عزوجل بشیٔ فیضعہ فی کفۃ میزانہ فتر جح حسناتہ علی سیئا تہ فید خل الجنۃ
بفضل رحمتہ۔
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رب العزت جل و علا روز قیامت مدیون سے پوچھے گا ، تو نے کاہے میں یہ دین لیا اور لوگوں کا حق ضائع کیا ؟ عرض کریگا : اے رب میرے! تو جانتا ہے کہ میرے اپنے کھانے پینے پہننے ،ضائع کردینے کے سبب وہ دین نہ رہ گیا بلکہ آگ لگ گئی ، یا چوری ہو گئی ، یا تجارت میں ٹوٹا پڑا ، یوں رہ گیا ۔ مولیٰ عزوجل فرمائے گا : میرا بندہ سچ کہتا ہے۔سب سے زیادہ میں مستحق ہوں کہ تیری طرف سے ادا فرما دوں۔ پھرمولیٰ سبحانہ و تعالیٰ کوئی چیز منگا کر اس کے پلۂ میزان میں رکھ دیگا کہ نیکیاں برائیوں پر غالب آجائینگی اور وہ بندہ رحمت
الہی کے فضل سے داخل جنت ہوگا ۔
پنجم۔ اولیاء کرام ، صوفیۂ صدق، ارباب معرفت قدست اسرارہم و نفعنا اللہ
ببرکاتہم فی الدنیا و الآخرۃ کہ بنص قطعی قرآن روز قیامت ہر خوف و غم سے محفوظ و
سلامت ہیں ۔
قال تعالیٰ : الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیہم ولا ہم یحزنون ْ۔ تو ان میں بعض سے اگر براہ تقاضائے بشریت بعض حقوق الہیہ میں اپنے مقام و منصب کے لحاظ سے کہ حسنات الابرار سئیات المقربین کوئی تقصیر واقع ہو تو مولیٰ عزوجل اسے وقوع سے پہلے
معاف فرما چکا۔ کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع