30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے سامنے تذکرۂ جماع اور ہر قسم کے گناہ و نافرمانی سے بچے ۔ اس وقت تک جتنے گناہ کئے تھے بشرط قبول سب معاف ہوجاتے ہیں ۔ پھر اگر حج کے بعد فوراً مرگیا ۔ اتنی مہلت نہ ملی کہ جو حقوق اللہ عزوجل یا بندوں کے اس کے ذمہ تھے انہیں ادا یا ادا کی فکر کرتا تو امید واثق ہے کہ مولیٰ تعالیٰ اپنے تمام حقوق سے مطلقاًدرگزر فرمائے ، یعنی نماز روزہ ،زکوۃ ، وغیرہا فرائض کو بجانہ لایا تھا ان کے مطالبہ پر بھی قلم عفو پھر جائے ۔ اور حقوق العباد و دیون و مظالم ، مثلاً ، کسی کا قرض آتا ہو ، مال چھینا ہو ، برا کہا ہو ، ان سب کو مولیٰ تعالی ٰ اپنے ذمہ کرم پر لے لے، اصحاب حقوق کوروز قیامت راضی فرما کر مطالبہ و خصومت سے نجات بخشے۔ یونہی اگر بعد کو زندہ رہا اور بقدر قدرت تدارک حقوق کرلیا ، یعنی زکوۃ دیدی، نماز روزہ کی قضا ادا کی ، جس کا جو مطالبہ آتا تھا دے دیا ، جسے آزار پہونچایا تھا معاف کرا لیا ، جس مطالبہ کا لینے والا نہ رہا یا معلوم نہیں اس کی طرف سے تصدق کر دیا ، بوجہ قلت مہلت جو حق اللہ عزوجل یا بندہ کا ادا کرتے کرتے رہ گیا اس کی نسبت اپنے مال میں وصیت کردی ، غرض جہاں تک طرق براء ت پر قدرت ملی تقصیر نہ کی تو اس کے لئے امید اور زیادہ قوی کہ اصل حقوق کی تدبیر ہو گئی ، او ر اثم مخالفت حج سے دھل چکا تھا ۔ ہاں اگر بعد حج با وصف قدرت ان امور میں قاصر رہا تو یہ سب گناہ از سر نو اس کے سر ہوںگے ،کہ حقوق تو خود باقی تھے ان کی ادا میں پھر تا خیر و تقصیر گناہ تازہ ہوئے اور وہ حج ان کے ازالہ کو کافی نہ ہوگا ۔ کہ حج گزرے گناہوں کو دھوتا ہے آئندہ کے لئے پروانہ بے قیدی نہیں ہوتا ۔ بلکہ حج مبرور کی نشانی ہی یہ ہے کہ پہلے سے اچھا ہو کر پلٹے۔ فاناللہ
و انا الیہ راجعون ، ولاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔
مسئلہ حج میں بحمد اللہ تعالیٰ یہ وہ قول فیصل ہے جسے فقیر غفرلہ القدیر نے بعد تنقیح دلائل و مذا ہب ، و احاطۂ اطراف و جوانب اختیارکیا ۔ جس سے اقوال ائمہ کرام میں توفیق ، اور دلائل حدیث و کلام میں تطبیق ہوتی ہے۔ اس معرکۃ الآراء مبحث کی نفیس تحقیق بعونہ تعالیٰ فقیر غفر اللہ تعالیٰ لہ نے بعد ورود اس سوال کے ایک تحریر جداگانہ میں لکھی ، یہاں اس قدر کافی ہے ۔و باللہ
التوفیق ۔
۲۲۱۵۔ عنانس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: وقف النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بعرفات ، وقد کادت الشمس ان تغرب ، فقال : یا بلال! انصت لی الناس ، فقام بلال فقال : انصتوا لرسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ، فانصت النا س ۔ فقال : یا معشر الناس ! اتانی جبرئیل آنفا فاقرآنی من ربی السلام و قال : ان اللہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع