30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے ارشاد فرمایا : ہمسائے کا ہمسائے پر حق یہ ہے کہ بیمار پڑے تو، تو اس کو پوچھنے کو جائے ،اور مرے تو اس کے جنازہ کے ساتھ جائے ، اور وہ تجھ سے قرض مانگے تو اسے قرض دے ،اور اس کا کوئی عیب معلوم ہو جائے تو اسے چھپائے ،اور اسے کوئی بھلائی پہونچے تو اسے مبارک باد دے ۔اور کوئی مصیبت پڑے تو اسے دلاسا دے ،اور اپنی دیوار اس کی دیوار سے اتنی اونچی نہ کر کہ اس کے مکان کی ہوا رکے ،اور اپنی دیگچی کی خوش بو سے اسے ایذا نہ دے مگر یہ کہ
اس کھانے میں سے اسے بھی حصہ دے ۔
{۲} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
یعنی تو امیر ہے اور وہ غریب ،اور تیرے یہاں عمدہ کھانے پکتے پکاتے ہیں ، خوشبو اسے پہونچے گی ، وہ ان پر قادر نہیں تو اس سے ایذا پائے گا ، لہذا اس میں سے اسے بھی دے کہ وہ ایذا
خوشی سے مبدل ہو جائے ۔ احکام شریعت ، ۱۴۱
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۲۰۵۔ المسند لاحمد بن حنبل، ۲/۸۵ ٭ الجامع الصغیر للسیوطی، ۲/۴۸۴
الترغیب والترہیب للمنذری، ۳/۳۶۰ ٭ کنزالعمال للمتقی، ۲۴۸۷۸، ۹/۴۹
المعجم الکبیر للطبرانی، ۸/۱۶۶ ٭ السنن الکبری للبیہقی، ۶/۲۷۵
۲۲۰۶۔ کنز العمال للمتقی، ۲۵۹۷، ۹/۵۲ ٭ اتحاف السادۃ للزبیدی، ۶/۳۰۸
الجامع الصغیر للسیوطی، ۱/۲۲۸ ٭ المعجم الکبیر للطبرانی، [
(۳) حقو ق العباد قیا مت میں دلائے جائیںگے
۲۲۰۷۔ عن أبی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : من کانت لہ مظلمۃ لا خیہ من عرضہ اوشیٔ فلیتحللہ منہ الیوم قبل ان لا یکون دینار ولا درہم ، ان کان لہ عمل صالح اخذ منہ بقدر مظلمۃ ، و ان
لم یکن لہ حسنات اخذ من سیئات صاحبہ محمل علیہ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کے ذمہ اپنے بھائی کا آبرو وغیرہ کسی بات کا مظلمہ ہو اسے لازم ہے کہ یہیں اس سے معافی چاہے قبل اس وقت کے آنے کے، کہ وہاں نہ روپیہ ہوگا ، نہ اشرفی ، اگر اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع