30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتاوی رضویہ حصہ دوم ،۹/۹۴
(۴) باجے گانے ناجائز ہیں
۲۱۹۶۔عن أبی مالک الاشعری رضی اللہ تعالی عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : لیکونن اقوام من امتی یستحلون الحر والحریر و الخمر و
المعازف۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۱۹۶۔ الجامع الصحیح للبخاری، د، باب ما جاء فیمن یستحل الخمر، ۲/۸۲۷
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت میں کچھ لوگ ہوں گے جو زنا، ریشمی کپڑوں ، شراب اور
باجوں کو حلال سمجھیںگے۔
{۳} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
یہ حدیث صحیح ہے ،اس میں ہے کہ وہ آخر زمانہ میں بندر اور سور ہو جائیں گے ۔
زنا و غنا پر جو مال حاصل کیا جاتا ہے وہ ان لوگوں کی ملک نہیں ہو جاتا ، ان کے ہاتھ میں مثل مغصوب ہوتا ہے ۔ نہ ان کا اجرت میں لینا جائز نہ کسی چیز کی قیمت میں لینا جائز ۔ صدقہ و ہدیہ تو دوسری بات ہے ، بلکہ وہ جو کچھ فقیر کو دے اسے خیرات کہنا حرام ، ہاں اگر کوئی مال خریدا اگر چہ اپنے زر حرام سے اور اس پر عقد و نقد جمع نہ ہوئے ہوں ،یعنی یہ نہ ہوا ہو کہ وہ حرام روپیہ دکھا کر کہا : ان کے عوض دیدے اور وہی روپیہ ثمن میں دیا ۔ یوں تو جو چیز بھی خریدیں وہ حرام ہے ۔ ہاں یوں ہوا کہ مثلاً کہا : ایک روپے کی فلاں چیز دیدے اسنے دے دی ، اسنے اپنا زر حرام ثمن میں دیا تو اگر چہ اس ثمن میں صرف کرنا حرام تھا مگر جو چیز خریدی حرام نہ ہوئی ۔ رہا جنازہ اور اس کی نماز تو یہ لوگ اگر مسلمان ہوں تو ضرور فرض ہے ۔ مگر اس قسم کے پیشہ ور لوگوں کا ایمان سلامت رہنا بہت دشوار معلوم ہوتا ہے ۔ان کے یہاں کی رسم سنی گئی ہے کہ جب لڑکی سے اول بار زنا کراتے ہیں تو اسے دلہن بناتے ہیں اور نیا ز دلاتے ہیں اور مبارک سلامت ہوتی ہے ۔ ایساہے تو یقینا وہ سب کافر ہوجاتے ہیں ۔ ان پر نماز حرام ، ان کے جنازہ کی شرکت حرام ۔نسال اللہ
العفو والعافیۃ واللہ تعالیٰ اعلم۔ فتاوی رضویہ ، حصہ دوم ، ۹/۱۷۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع