30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو روا ہے ، ہماری روح
کی پاکیزہ غذا ہے ۔ یہ ناپاک نتیجہ اسی اہل و نااہل کے فرق پر جہل کا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۱۹۵۔المسند لاحمد بن حنبل، ۵/۳۸۴
اور ان کا کذب صریح یوں آشکار کہ سماع بے مزامیر جس میں اہل و نا اہل کا فرق ہے
اس کے جواز میں اس کے اہل نے یہ شرط رکھی ہے کہ جلسہ سماع میں کوئی نا اہل نہ ہو یہاں تک کہ قوال بھی اہل باطن ہو ۔ جیسے بارگاہ حضور محبوب الہی سلطان الاولیاء نظام الحق والدین محمد رضی
اللہ تعالیٰ عنہ میں حضرت سیدنا امیر خسرو اور حضرت سیدی میر حسن علی سنجری قدس سرہما۔
بفرض باطل ، اگر مزامیر میں بھی اہل و نااہل کا فرق ہوتا تو اہل وہ تھا کہ کسی نا اہل کے سامنے نہ سنتا ۔ یہ جہل کے اہل عام مجمع کرتے ہیں جس میں فساق ،فجار ،شرابی اور زناکار سب کا شیطانی بازار لگتا ہے اور مزامیر کھڑکتے ہیں ،یہ اہلیت کی شکل ہے ؟ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ
العلی العظیم۔
ان سب کی گمراہی اور عوام کی بربادی تباہی کا وبال انہیں مولویوں کے سر ہے جو اہل و نا اہل کا فرق بتاتے اور حرام خدا کو حلال کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، اور امت کی بھیڑوںکو ابلیس بھیڑئے کے پنجے میں دیتے ہیں ۔ پھر مزامیر کی حالت بالکل شراب کی مثل ہے ، ’’قلیلہا یدعو الی کثیرہا ‘‘ تھوڑی سے بہت کی خواہش پیدا ہوتی ہے ، ’’الذنب یجری الی الذنب‘‘
گناہ گناہ کی طرف کھینچتا ہے ۔
ع ، تخم فاسد بار فاسد آورد ۔
شدہ شدہ رنڈی کے مجرے تک نوبت پہونچتی ہے ، پھر مجلس میں فاحشہ ناچ رہی ہے اور پیر جی صاحب شیخ المشائخ و پیر مغاں و قطب دوراں بنے ہوئے بیٹھے ہیں ، اور مریدین ہو،
حق مچارہے ہیں ، تف بریں اہلیت ۔
یہ سب نتائج ملعونہ اسی مداہنت و تحلیل حرام کے فرق اہل و نا اہل کے ہیں ، والعیاذ
باللہ رب العالمین ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع