30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شرح معانی الآثار للطحاوی، ٭
دوسری شیطانی آواز کہ گانے اور مزامیرکی آواز ہے۔۱۲م
(۳) ناچ گانے میں شریک ہونے والا ملعون ہے
۲۱۹۵۔ عن حذیفۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ
علیہ وسلم : من قعد وسط الحلقۃفہو ملعون ۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جو شخص ناچ دیکھنے اور مزامیر اور گانا سننے کے لئے کسی مجلس میں بیٹھا وہ ملعون
ہے ۔ ۱۲م
{۲} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
اہل و نا اہل کا تفرقہ سماع مجرد (بغیر مزامیر) میں ہے ،مزامیر میں اہل کی اہلیت نہیں ،نہ
ان کا کوئی اہل،نہ وہ کسی کے لئے جائز مگر مجاذیب از خود رفتہ کہ عقل تکلیفی نہ رکھتے ہوں ، ان پر
ایک مزامیر کیا کسی بات کا مواخذہ نہیںکہ
ع، سلطان نگیرد خراج از خراب۔
ایسی جگہ اہل عقل میں اہل و نااہل کا فرق کرنا ہر کس و ناکس کو گناہ پر جری کرنا اور امت مرحومہ پر مکر شیطان لعین کا دروازہ کھولنا ہے، ہر فاسق مدعی ہو گا کہ ہم اہل ہیں ، ہم کو حلال ہے علانیہ ارتکاب معصیت کریگا اور حرام خدا کو حلال بتائے گا ، اور اپنے امثال عوام جہال کو گمراہ بنائے گا کیا شریعت محمدیہ ایسا حکم لاتی ہے ۔ حاشا للہ ، شریعت مطہرہ فتنہ کا دروازہ بند کرتی اور یہ حکم فتنہ
کے روزن کو عظیم پھاٹک کرتا ہے ۔ تو کس قدر مبائن شریعت غراء ہے ۔
اب دیکھ نہ لیجئے کہ آج کل کتنے نا متشخص ، کتنے بے تمیز ، کتنے کندہ ناتراشیدہ جن کو استنجاء کرنے کی بھی تمیز نہیں ، یہ بھی نہیں جانتے کہ استنجاء کرنے میں کیا کیا فرض ، واجب ،سنت ، مکروہ اور حرام ہیں ، وہ گیروا کپڑا رنگ کر ، یا عورتوں کے سے کاکل بڑھا کر رات دن اسی آواز شیطانی میں منہمک ہیں ۔ نماز یں قضا ہوں بلا سے مگر ڈھولک ٹھنکنا ناغہ نہ ہو ۔ اور پھر وہ پیر و مرشد ہیں ، کہ ان کے پاؤں پر سجدے ہوتے ہیں ، اور علانیہ کہتے ہیں : ہم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع