30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲۱۹۱۔ عن أبی مالک الا شعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم :لیکونن فی امتی اقوام یستحلون الحرّ والحریر ،والخمر و
المعازف۔
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ضرور میری امت میں وہ لوگ ہونے والے ہیں ،جو حلال ٹھہرائینگے
عورتوں کی شرمگاہ،یعنی زنا،اور ریشمی کپڑے ، اور شراب اور باجے۔
{۱} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
قوالی حرام ہے ،حاضرین سب گناہ گار ہیں اور ان سب کے برابر گناہ عرس کرنے والوںپر اور قوالوں پر ہے اور قوالوں کا گناہ بھی اس عرس کرنے والوں پر ہے ،یعنی حاضرین میں ہر ایک پر اپنا پورا گناہ ،اور قوالوں پر اپنا گناہ الگ ،اور سب کے برابر جدا ۔ وجہ یہ کہ حاضرین کو عرس کرنے والے نے بلایا ، یا ان کے لئے اس گناہ کا سامان پھیلایا ،اور قوالوں نے انہیں سنایا ،اگر وہ سامان نہ کرتا یہ ڈھول سارنگی نہ سناتے ،تو حاضرین اس گناہ میں کیوں پڑتے ،اس لئے ان سب کا گنا ہ ان دونوں پر ہوا ،پھر قوالوں کے اس گناہ کا باعث وہ عرس کرنے والا ہوا ،وہ نہ
کرتا نہ بلاتا تو یہ کیونکر آتے بجاتے،لہذا قوالوں کا گناہ بھی اس بلانے والے پر ہوا۔
یہ حدیث صحیح جلیل متصل ہے ،احادیث صحاح مرفوعہ محکمہ کے مقابل بعض ضعیف قصے یا محتمل واقعے یا متشابہ پیش نہیں ہو سکتے ۔ ہر عاقل جانتا ہے کہ صحیح کے سامنے ضعیف ،متعین کے آگے محتمل ، محکم کے حضور متشابہ واجب الترک ہے ۔ پھر کہاں قول اور کہاں حکایت فعل ،پھر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۱۹۱۔ الجامع الصحیح للبخاری، باب ما جاء فیمن لیتحل الخمر ، ۲/۷۳۷
السنن لأبی داؤد ، باب ما جاء فی الحر، ۲/۵۶۰
السنن الکبری للبیہقی، ۱۰/۲۲۱ ٭ معجم الکبیر للطبرانی، ۳/۳۱۹
اتحاف السادۃ للزبیدی، ۶/۴۷۲ ٭ کنز العمال للمتقی، ۳۰۹۲۶، ۱۱/۳۷
فتح الباری للعسقلانی، ۱۰/۵۲ ٭ المغنی للعراقی، ۲/۲۶۹
کجا محرم کجا مبیح،ہر طرح یہ ہی واجب العمل اسی کو ترجیح۔
غرض حدیث و فقہ کا حکم تو یہ ہے ۔ہاں اگر کسی کو قصداًہوس پرستی منظور ہو تو اس کا علاج
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع