30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۴) اس پر قسمیں نہ کھایا کریں ۔
(۵) فحش نہ بکیں ۔ مگر تحقیق یہ ہے کہ مطلقاً منع ہے ۔ اور حق یہ کہ ان شرطوں کا نباہ ہر گز نہیں ہوتا ۔خصو صاً شرط دوم و سوم میں ۔کہ جب اس کا چسکا پڑ جاتا ہے ضرور مداومت کرتے ہیں ، اور لا اقل وقت نماز میں تنگی یاجماعت میں کاہلی وغیرہ بیشک ہوتی ہے۔جیسا کہ تجربہ اس پر شاہد ۔ اور بالفرض ہزار میں ایک آدھ آدمی ایسا نکلے کہ ان شرائط کا پورا لحاظ رکھے تو نادر پر حکم نہیں ہوتا۔و انما تبتنی الاحکام الفقہیۃ علی الغالب فلا ینظر الی النادر و لا یحکم الابالمنع۔تو ٹھیک یہ ہی ہے کہ اس سے مطلقاً ممانعت کی جائے ۔ ہاں اتنا ہے کہ اگر بد کر نہ ہو تو ایک آدھ بار کھیلنا گناہ صغیرہ ہے ۔اور بد کر ہو یا عادت کی جائے ،یا اس کے سبب نماز کھوئیں یا جماعتیں فوت کریں توآپ ہی گناہ کبیرہ ہو جائیگی۔ اسی طرح ہر کھیل اور عبث فعل جس میں نہ
کوئی غرض دین ،نہ کوئی منفعت جائزہ دنیوی ہو سب مکروہ و بے جاہیں ۔کوئی کم کوئی زیادہ ۔ فتاوی رضویہ ،حصہ اول ،۹/۴۴
۲۱۷۹۔ عن عقبۃ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : کل شیٔ یلہوبہ الرجل باطل الارمح بقوسہ ،وتادیبہ فرسہ،
وملاعبتہ امر أتہ،فانہن من الحق۔
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر کھیل مرد کے لئے حرام ہے مگر تیر اندازی سیکھنا ،گھوڑے کو سدھانا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۱۷۹۔ الجامع للترمذی، باب ما جاء فی فضل الرمی فی سبیل اللہ، ۱/۱۹۷
السنن لابن ماجہ ، باب الرمی، فی سبیل اللہ ، ۲/۲۰۷
المسند لاحمد بن حنبل، ۴/۱۴۴ ٭ المعجم الکبیر للطبرانی، ۱۷/۳۴۱
اتحاف السادۃ للزبیدی، ۶/۵۱۹ ٭ المغنی للعراقی، ۲/۲۸۳
الدر المنثور للسیوطی، ۱۰/۱۴ ٭ التفسیر للقرطبی، ۸/۳۵
السنن للدار می، ۲/۲۰۵ ٭
اور اپنی عورت سے کھیلنا ،کہ یہ سب جائز ہیں ۔۱۲م فتاوی رضویہ ،حصہ اول ،۹/۱۰۹
(۲) کھیل کود کرنا جائز نہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع