30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲۱۶۹۔ الصحیح لمسلم ٭
السنن لابی داؤد، باب فی تنزیل اللباس منازلہم، ۲/۶۶۵
المعجم الصغیر للسیوطی، ۱/۱۶۳ ٭ اتحاف السادۃ للزبیدی، ۶/۲۶۵
کنز العمال للمتقی، ۱۷۱۴۶، ۶/۶۳۰ ٭ البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر، ۸/۹
۲۱۷۰۔ المستدرک للحاکم ، ۴/۲۹۲ ٭ المعجم الکبیر لطبرانی، ۲/۳۷۰
حلیۃ الاولیاء لأبی نعیم، ۶/۲۰۵ ٭ السنن الکبری للبیہقی، ۸/۱۶۸
مجمع الزوائد للہیثمی، ۴/۲۳۴ ٭ تاریخ بغداد للخطیب ، ۷/۹۴
اتحاف السادۃ للزبیدی، ۴/۱۸۴ ٭ کنز العمال للمتقی، ۲۵۴۸۷، ۹/۱۵۴
{۲} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حضور ایک سائل حاضر ہوا،اسے ٹکڑا عطا فرمایا ۔ ایک ذی عزت مسافر گھوڑے پر سوار حاضر ہوا اس کی نسبت فرمایا :کہ باعزاز اتار کر کھانا کھلایا جائے ۔ سائل کی حاجت اسی قدر تھی ۔ اور کسی رئیس کو ٹکڑا دیا جائے تو باعث اس کی سبکی اور ذلت کا ہو ۔ لہذا فرق مراتب ضرور ہے۔اور اصل مدار نیت پر ہے ۔ اگر سائل کو بوجہ اس کے فقر کے ذلیل سمجھے اور غنی کو بوجہ اس کی دنیا کے عزت دار جانے تو سخت بے
جا اور سخت شنیع ہے ۔اور اگر ہر ایک کے ساتھ خلق حسن منظور ہے تو جتنا جس کے حال کے
مناسب ہے اس پر عمل ضرور ہے۔ فتاوی رضویہ ،حصہ دوم ،۹/۱۶۹
(۹) منافق کی تعظیم غضب رب کا سبب ہے
۲۱۷۱۔ عن بریدۃ الاسلمی رضی ا للہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی
للہ تعالیٰ علیہ وسلم :لا تقولوا للمنافق : یا سید، فانہ ان یکن سیدا فقد ا سخطتم
ربکم ۔
ٍ حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :منافق کواے سردار کہکر نہ پکارو!کہ اگر وہ تمہارا سردار ہوا تو بیشک تم نے
اپنے رب عزوجل کو ناراض کیا۔ فتاوی افریقہ،۳۶
فتاوی رضویہ ،۳/۲۹۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع