30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالی ٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک جنازہ پر نماز پڑھی ۔ میں نے سرکار کی دعا کو یاد کر لیا ، آپ خداوند
قدوس سے یوں دعا کر رہے تھے ، الہی اس میت کو بخش دے اور اس پر رحم فرما ، اور اسے ہر بلا
سے بچا اور اسے معاف کر ، اور اسے عزت کی مہمانی دے ، اور اسکی قبر کشادہ فرما اور اسے دھو دے پانی اور برف اور اولوں سے ، اور اسے پاک کردے گناہوں سے جیسے تونے پاک کیا سفید کپڑا میل سے ، اور اسے بدل دے مکان بہتر اسکے مکان سے ، اور بدل دے گھر والے بہتر اسکے گھر والوں سے ، اور زوجہ بہتر عطا فرما اسکی زوجہ سے ، اور اسے داخل فرما بہشت میں ، اور اسے پنا ہ
دے قبر کے عذاب اور قبر کے سوال اور دوزخ کے عذاب سے ۔حضرت عوف فرماتے ہیں : یہ
سنکر مجھے اس بات کی تمنا ہوئی کہ کاش میں اس میت کی جگہ ہوتا ۔ فتاوی رضویہ ۴/ ۸۹
۱۱۱۹۔ عن عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال : صلی النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم علی جنازۃ فقال : أللّٰہُمَّ! عَبْدُکَ وَاِبْنُ أمَتِکَ یَشْہَدُ أنْ لاَ اِلٰہَ اِلَّا أنْتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ ، وَیَشْہَدُ أنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ ، أصْبَحَ فَقِیْرًا اِلٰی رَحْمَتِکَ وَأصْبَحْتَ غَنِیًا عَنْ عَذَابِہٖ، تَخَلّٰی مِنَ الدُّنْیَا وَأہْلِہَا ، اِنْ کَانَ زَاکِیًا فَزَکِّہُ
وَاِنْ کَانَ مُخْطِئًا فَاغْفِرْ لَہٗ ، أللّٰہُمَّ لاَ تَحَرِ مْنَا أجْرَہٗ وَتُضِلَّنَا بَعْدَہٗ ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک جنازہ پر نماز پڑھی تو یہ دعا پڑھی : الہی ! یہ میت تیرا بندہ اور تیری باندی کا بچہ گواہی دیتا ہے کہ کوئی سچا معبود نہیںمگر اکیلا تو ، تیرا کوئی شریک نہیں ، اور گواہی دیتا ہے کہ محمد تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ۔ یہ محتاج ہے تیری مہربانی کا اور تو بے نیاز ہے اسکے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۱۱۹۔ المستدرک للحاکم ، کتاب الجنائز ، ۱/۳۵۹
مجمع الزوائد للہیثمی ، ۳/۳۳ ٭ المطالب العالیۃ لابن حجر ، ۷۶۳
عذاب سے ۔ یہ اکیلا رہا دنیا اور دنیا کے لوگوں سے ، اگر یہ ستھرا تھا تو اسے ستھرا فرمادے ،اور اگر
خطا وار تھا تو اسے بخشدے ۔الہی ہمیں محروم نہ کر اسکے ثواب سے اور گمراہ نہ کر اسکے بعد ۔ فتاوی رضویہ ۴/ ۸۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع