30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۱۱۵۔ عن محمد ابراہیم التیمی المدنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال ؛ لما کفن
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ووضع علی سریرہ دخل ابو بکر وعمر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۱۱۴۔ الطبقات الکبری لابن سعد، ذکر الصلوۃ علی رسول اللہ ﷺ ، ۲/۲۲۲
۱۱۱۵۔ الطبقات الکبری لابن سعد ، ذکر الصلوٰۃ علی رسول اللہ ﷺ ، ۲/۲۲۱
فقالا : السلام علیک ایہا النبی ورحمتہ وبرکاتہ ومعہا نفر من المہاجرین والانصار قد رما یسع البیت فسلموا کما سلم ابو بکر وعمر وہما فی الصف الاول حیال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ،اللہم انا نشہد ان قد بلغ
ما انزل الیہ ونصح لا متہ وجاہد فی سبیل اللہ حتی اعز اللہ دینہ وتمت کلمتہ فاومن بہ وحدہ لا شریک لہ فا جعلنا یا الہنا ممن یتبیع القول الذی انزل معہ واجمع ،بنینا وبینہ ، حتی نعرفہ وتعرفہ بنا فانہ کان بالمؤمنین رؤفا رحیما لا ینبغی بالا یمان بدلا ، ولا نشتری بہ ثمنا ابدا فیقول الناس ، آمین ، آمین ، ثم یخرجون وید خل علیہ آخرون حتی صلوا علیہ الرجال ثم النساء ثم الصبیان ۔
حضرت محمد ابراہیم تیمی مدنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو کفن دیکر سریر مبارک پر آرام دیا ۔ سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حاضر ہو کر عر ض کیا : سلام حضور پر اے نبی ، اور اللہ کی مہر اور اسکی افزونیاں ، دونوں حضرات کیساتھ ایک گروہ مہاجرین و انصار کا تھا جس قدر اس حجرۂ پاک میں سما جاتا ، ان سب نے یونہی سلا م عرض کیا ۔ اور صدیق و فاروق پہلی صف میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے یہ دعا کرتے تھے۔الہی ہم گواہی دیتے ہیں کہ جو کچھ تو نے اپنے نبی پر اتا را حضور نے امت کو پہونچا دیا ۔ اور امت کی خیر خواہی میں رہے اور راہ خدا میں جہاد فرمایا ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غلبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی باتیں پوری ہوئیں ، میں ایک اللہ پر ایمان لاتا ہوں اسکا کوئی شریک نہیں ۔ اے معبود ہمارے ہمیں انکی کتاب کے پیروؤں میں کر جو انکے ساتھ اتری اور ہمیں ان سے ملا کہ ہم انہیں پہچانیں اور تو ہماری پہچان انہیں کرا دے کہ وہ مسلمانوں پر مہر بان رحم دل تھے ۔ ہم نہ ایمان کسی چیز سے بدلنا چاہیں نہ اسکے عوض کچھ قیمت لینا۔لوگ اس دعا پر آمین کہتے تھے ۔ پھر باہر جاتے اور آتے یہاں تک کہ
مردوں پھر عورتوں پھر بچوں نے حضور پر صلاۃ کی ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع