30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۱۰۹۔ المصنف لابن ابی شیبۃ ، باب فی الرجل یخاف ان الخ، ۲/۴۹۸
۱۱۱۰۔ المصنف لابن ابی شیبۃ ، باب فی الرجل یخاف ان الخ، ۲/۴۹۸
۱۱۱۱۔ المصنف لابن ابی شیبۃ ، باب فی الرجل یخاف ان الخ، ۲/۴۹۸
۱۱۱۲۔ شرح معانی الآثار للطحاوی، باب ذکر الجنب و الحائض، الخ، ۱/۵۲
۱۱۱۳۔ المصنف لابن ابی شیبۃ ، باب فی الرجل یخاف ان الخ، ۲/۴۹۸
(۱۹) حضور کی نماز جنازہ کس طرح پرھی گئی
۱۱۱۴۔ عن أمیر المؤمنین علی المرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم قال :
لما وضع رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال : لا یقوم علیہ احد ہو امامکم حیا ومیتا فکان ید خل الناس رسلا رسلا فیصلون علیہا صفا صفالیس لہم امام ویکبرون وعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قائم بحیال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقول السلام علیک ایہا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، اللہم انا نشہد ان قد بلغ ما انزل الیہ ونصع لاُ متہ وجاہد فی سبیل اللہ حتی اعزاللہ دینہ وتمت کلمتہ ، اللہم فاجعلنا ممن تبع ما انزل الیہ وثبتنا بعدہ واجمع بیننا وبینہ فیقول
الناس ، آمین ، حتی صلی علیہ الرجال ثم النساء ثم الصبیان ۔
امیر المؤمنین حضرت مولی علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ جب حضور پر نو ر سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو غسل دیکر سر یر منیر پر لٹایا تو حضرت علی نے خود فرمایا : حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے آگے کوئی امام بنکر نہ کھڑا ہو کہ وہ تمہارے امام ہیں ، دنیوی زندگی میں بھی اور بعد وصال بھی ۔ پس لوگ گروہ در گروہ آتے اور پرے کے پرے حضور پر صلوۃ کرتے ۔ کوئی انکا امام نہ تھا ۔ حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے عرض کرتے تھے ۔ سلام حضور پر اے نبی اور اللہ کی رحمت اور اسکی برکتیں ۔ الہی ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور نے پہونچا دیا جو کچھ انکی طرف اتارا گیا ۔ اور ہر بات میں اپنی امت کی بھلائی اور راہ خدا میں جہاد فرمایا ۔ یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے اپنے دین کو غالب کیا اور اللہ کا فرمان پورا ہوا ۔ الہی توہم کو ان پر اتاری ہوئی کتاب کے پیرؤوں میں سے کر اور انکے بعد بھی انکے دین پر قائم رکھ اور روز قیامت ہمیں ان سے ملا ۔ مولی علی یہ دعا کرتے اور حاضرین آمین کہتے ۔ یہاں تک کہ ان پر پہلے مردوں پھر عورتوں پھر لڑکوں نے
صلاۃ کی ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع