30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے افعال کی حکمتیں خوب جانتے ہیں ۔
نظر ظاہر میں یہاں دو حکمتیں معلوم ہوتی ہیں ۔
اولاً ۔ جمع تام ہے ، اور جمع تام گویا صف تام ہے لہذا ایک روایت میں تین عورتوں کو
جمیع صفوف ما بعد کی نماز کا قاطع بتایا ۔
اور ظاہر الروایت میں بھی اسے اس درجہ قوی بتایا کہ ایک صف کو دوسری کا حائل نہ
جانا۔ اور انکی محاذات میں آخر صفوف تک تین مردوں کی نماز پر حکم فساد فرمایا ۔ اس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۰۸۸۔ السنن لابی داؤد ، باب الصفوف علی الجنازۃ ، ۱/۴۵۱
۱۰۸۹۔ الجامع للترمذی، با ب کیف الصلوۃ علی المیت ، ۱/۱۲۲
معنوی کثرت وقوت کی تحصیل کو صف اول میں تین شخص رکھے۔
ثانیاً۔ اس میں تعدیل فضل ہے کہ جمع میں برکت ہے ۔ ایک سے دو میں زائد دو سے تین میں ، اور صفوف جنازہ میں آ خر بالآخر افضل ہے ۔ پہلی سے دوسری افضل ، دوسری سے تیسری افضل ، تو اس ترتیب سے ہر صف کے لئے چارفضل حاصل ہو گئے ۔ پہلی صف میں باعتبار صف ایک اور بلحاظ رجال تین ۔ دوسری صف میں صف اور رجال دونوں کے اعتبار سے دو
دو ۔ تیسری میں باعتبار صف تین بلحاظ رجل ایک ۔ واللہ ذوالفضل العظیم ۔
فتاوی رضویہ ۴/ ۸۱
(۱۱) سو نمازیوں کے طفیل میت کی بخشش ہو جاتی ہے
۱۰۹۰۔ عن أبی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ
تعالیٰ علیہ وسلم: مَنْ صَلَّی عَلَیْہِ مِأۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ غُفِرَلَہٗ ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا : جس پر سو مسلمان نماز پڑھیں وہ بخشا جائیگا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع