30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ارشاد ہوا ۔ اور وہ یہ کہ انکو جنت میں منہ پھیرے ہوئے پایا کہ
معرکہ میں قدرے اعراض ہو کر اقبال ہوا تھا ۔
اور سب سے زائدیہ کہ وہ شہدائے معرکہ ہیں ۔ نماز غائب جائز ماننے والے شہید معرکہ پر نماز ہی نہیں مانتے ۔ تو باجماع فریقین صلاۃ بمعنی دعا ہونا لازم ۔ جس طرح خود امام نووی شافعی ،امام قسطلانی شافعی اور امام سیوطی شافعی رحمہم اللہ تعالیٰ نے صلاۃ علی قبور شہدائے احد میں ذکر فرمایا کہ یہاں صلاۃ بمعنی دعا ہونے پر اجماع ہے ۔ کما اثر نا ہ فی النہی
الحاجز، حالانکہ وہاں تو صلی علی اہل احد صلاتہ علی المیت ، ہے یہاں تو اس قدر
بھی نہیں ۔
وہابیہ کے بعض جاہلان بے خرد مثل شوکانی صاحب نیل الاوطار ایسی جگہ اپنی
اصول دانی یوں کھولتے ہیں ۔ کہ صلاۃ بمعنی نماز حقیقت شرعیہ ہے اور بلا دلیل حقیقت سے
عدول نا جائز ۔
اقول: اولاً۔ ان مجتہد بننے والوں کو اتنی خبر نہیں کہ حقیقت شرعیہ صلاۃ بمعنی ارکان مخصوصہ ہے ۔ یہ معنی نماز جنازہ میں کہاں ،کہ اس میں رکوع ہے نہ سجود ، نہ قرأت ہے نہ قعود ، الثالث عند نا والبواقی اجما عاً۔ لہذا علما ء تصریح فرماتے ہیں کہ نما زجنازہ صلاۃ مطلقاً نہیں اور تحقیق یہ ہے کہ وہ دعائے مطلق اور صلاۃمطلقہ میں برزخ ہے ۔ کما اشار الیہ البخاری فی صحیحہ
واطال فیہ ۔
لا جرم امام محمود عینی نے تصریح فرمائی کہ نماز جنازہ پر اطلاق صلاۃ مجازا ہے۔ صحیح بخاری
میں ہے ۔ سما ہا صلاۃ لیس فیہا رکوع ولا سجود ۔ ۱/ ۱۷۲
عمدۃ القاری میں ہے ۔
لکن التسمیۃ لیست بطریق حقیقۃولابطریق الاشتراک ولکن بطریق المجاز
ثانیا ۔ صلاۃ کے ساتھ جب علی فلاں مذکور ہو تو ہرگز اس سے حقیقت شرعیہ مراد
نہیں ہوتی اور نہ ہو سکتی ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع