30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الرَّایَۃَ جَعْفَرُ بْنُ أبِی طَالِبٍ فَمَضٰی حَتَّی اسْتُشْہِدَ، فصلی علیہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ودعالہ وقال : اِسْتَغْفِرُوْا لَہٗ وَقَدْ دَخَلَ
الْجَنَّۃَ فَہُوَ یَطِیْرُ فِیْہَا بِجَنَاحَیْنِ حَیْثُ شَآئَ۔
حضرت عاصم بن عمر اورحضرت عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ جب مقام موتہ میں لڑائی شروع ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے ۔ اللہ عزوجل نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لئے پردے اٹھا دئیے کہ ملک شام اور وہ معرکہ حضور دیکھ رہے تھے ۔ اتنے میں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا : زید بن حارثہ نے نشان اٹھایا اور لڑتا رہا یہاں تک کہ شہید ہوا ۔ حضور نے انہیں اپنی صلوۃ اور دعا سے مشرف فرمایا : اور صحابہ کو ارشاد ہوا کہ اس کے لئے استغفار کرو ۔ بیشک وہ دوڑتا ہوا جنت میں داخل ہوا ۔ حضور نے پھر فرمایا: جعفر بن ابی طالب نے نشان اٹھایا اور لڑتا رہا یہاں تک کہ شہید
ہوا ۔ حضورنے انکو اپنی صلوۃ ودعا سے مشرف فرمایا ۔ اور صحابہ کو ارشاد ہوا کہ اسکے لئے استغفار کرو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۰۸۱۔ الجامع الصحیح للبخاری، باب الرجل ینعی الی اہل المیت بنفسہ ، ۱/۱۶۶
المسند لاحمد بن حنبل ، ۳/۱۱۳ ٭ السنن الکبری للبیہقی، ۸/۱۵۴
المستدرک للحاکم ، ۳/۴۲ ٭ نصب الرایۃ للزیلعی، ۲/۲۸۴
مجمع الزوائد للہیثمی، ۶/۱۶۰ ٭ التاریخ الصغیر للبخاری، ۱/۲۲
وہ جنت میں داخل ہوا اور اسمیں جہاں چاہے اپنے پروں سے اڑتا پھر تا ہے ۔
{۶} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
اولاً۔ یہ حدیث دونوں طریق سے مرسل ہے ۔ عاصم بن عمر اوساط تابعین سے ہیں ۔ قتادہ بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی کے پوتے ۔ اور یہ عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن حزم صغار
تابعین سے ہیں ۔ عمر و بن حزم صحابی کے پرپوتے ۔
ثانیاً ۔ خود واقدی کو محدثین کب مانتے ہیں یہاں تک کہ ذہبی نے انکے متروک
ہونے پر اجماع کیا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع