30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کنز العمال للمتقی، ۳۳۸۴۹، ۱۲/۳۲ ٭ فتح الباری للعسقلانی، ۱۳/۲۱۱
ہو۔ ہاں لوگ لگتے لگاتے ہیں جن میں سے کسی پر یقین نہیں البتہ یہ معیار صحیح ہے کہ حدیث میں
جو نشان ان بارہ خلفاء کے ارشاد ہوئے جس معنی میں وہ نہ پائے جائیں باطل ہے ۔ اور جس میں
پائے جائیں وہ احتمالی طور پر مسلم ہوگا نہ کہ یقینی۔
احادیث باب میں انکے نشان یہ ہیں ۔ سب قرشی ہوںگے ۔ وہ سب بادشاہ اور والیان ملک ہوں گے ۔ ان کے زمانہ میں اسلام قوی ہوگا ۔ان کا زمانۂ صلاح ہوگا ۔ ان پراجماع امت ہوگا ، یعنی اہل حل و عقد انہیں والی ملک و خلیفہ ٔاصدق مانیںنگے ۔ وہ سب
ہدایت و دین حق پر عمل کریں گے ۔ ان میں سے دو اہل بیت رسالت سے ہوں گے ۔
لگتے لگانے والوں میں جس نے سب طرق حدیث نہ دیکھے ایک آدھ طرق کو دیکھ کر کوئی احتمال نکال دیا ۔ جیسے ابولحسین بن مناوی نے یہ معنی لئے کہ ایک وقت میں ۱۲ خلیفہ ہوں گے ۔ یعنی اس قدر اختلاف یہ فقط اس لفظ مجمل بخاری پر بن سکتا تھا ۔ اوردیگر الفاظ دیکھئے تو
کہاں اس درجہ افتراق اور کہاں اجتماع ۔ اور ایسی حالت میں اسلام کے قوی و غالب و قائم اور
امرامت کے صالح ہونے کے کیا معنی ؟
اسی قبیل سے علی قاری کا یہ زعم باتباع ابن حجر شافعی ہے کہ صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
سے آخر ولاۃ نبی امیہ تک ۱۲ ہوئے اور ان میں یزید پلید علیہ ما علیہ کو بھی گنا دیا ۔
حالانکہ اس خبیث کے زمانہ کو قوت دین و صلاح سے کیا تعلق ۔ یہ احادیث دیکھ کر اس قول کی گنجائش نہ ہوتی ۔ مگر صرف ۱۲ سلطنتیں نگاہ میں تھیں۔ اور حق یہ کہ اس خبیث پر اجتماع اہل حل و عقد کب ہوا ۔ ریحانۂ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اسکے دست ناپاک پر بیعت نہ کرنے ہی کے باعث شہید ہوئے۔ اہل مدینہ نے اس پر خروج کیا ۔
عبد اللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ۔
واللہ ! ما خرجنا علی یزید حتی خفنا ان نری بالحجارۃ من السماء ، ان رجلا ینکح امہات الاولاد و البنات و الاخوات یشرب الخمر و یدع الصلوۃ ،
خد اکی قسم ! ہم نے یزید پر خروج نہ کیا جب تک یہ خوف نہوا کہ آسمان سے پتھر آئیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع