30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اولاً۔ استیعاب سے نقل کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے معاویہ بن معاویہ لیثی پر نماز پڑھی ۔ پھر کہا : استیعاب میں اس قصہ کا مثل معاویہ بن مقرن کے حق میں ابو امامہ
سے روایت کیا ۔
پھر کہا : نیز اسکا مثل انس سے ترجمہ معاویہ میں بھی معاویہ مزنی روایت کیا ۔
اس میں یہ وہم دلانا ہے کہ گویا یہ تین صحابی جدا جدا ہیں جن پر نماز غائب مروی ہے ۔ حالانکہ یہ محض جہل یا تجاہل ہے ۔ وہ ایک ہی صحابی ہیں ۔ معاویہ نام جنکے نسب ونسبت میں راویوں سے اضطراب واقع ہوا ۔ کسی نے مزنی کہا کسی نے لیثی ، کسی نے معاویہ بن معاویہ ، کسی
نے معاویہ بن مقرن ۔
ابو عمر نے معاویہ بن مقرن مزنی کو ترجیح دی کہ صحابہ میں معاویہ بن معاویہ کوئی معلوم
نہیں ۔
حافظ نے اصابہ میں معاویہ بن معاویہ مزنی کو ترجیح ۔ اور لیثی کہنے کو علاء ثقفی کی
خطا بتایا ، اور معاویہ بن مقرن کو ایک صحابی مانا جن کے لئے یہ روایت نہیں ۔
بہر حال صاحب قصہ شخص واحد ہیں اور شوکانی کا الہام تثلیث محض باطل ۔
ابن الاثیر نے اسد الغابہ میں فرمایا ؛ معاویہ بن معاویہ مزنی ہیں ۔ انکو لیثی بھی کہا جاتاہے اور معاویہ بن مقرن مزنی بھی ۔ ابو عمر ونے کہا : یہ ہی صواب سے نزدیک تر ہے ۔ پھر حدیث انس کے طریق اول سے پہلے طور پر نام ذکر کیا ۔ اور طریق دوم سے دوسرے طور پر ، اور
حدیث امامہ سے تیسرے طور پر ۔
ٔ٭ واقعہ سوم یہ ہے
۱۰۸۱۔ عن عاصم بن عمر بن قتادۃ و عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ
عنہما قالا: لما التقی الناس بموتہ جلس رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم علی المنبر وکشف لہ مابینہ وبین الشام فہو ینظر الی معرکتہم ، فقال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : أخَذَ الرَّایَۃَ زَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ فَمَضٰی حَتّی اسْتُشْہِدَ ، فصلی علیہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ودعا لہ فقال : اِسْتَغْفِرُوْا لَہٗ وَقَدْ دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَہُوَ یَسْعٰی ، ثُمَّ أخَذَ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع