30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہیں غائب نہ تھا ۔اور خدا کی قسم ! ازواج مطہرات میں سے ایک بی بی نے اس معاملہ کو ابو بکر سے پھیرنا چاہاتھا لیکن حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسکو نہ مانا اور غضب فرمایا ۔ کہ تم وہی یوسف والیاں ہو ۔ ابو بکر کو حکم دو کہ امامت کریں ۔ پس جبکہ حضور پر نور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے انتقال فرمایا ۔ ہم نے اپنے کاموں میں نظر کی تو اپنی دنیا یعنی خلافت کیلئے اسے پسند کر لیا جسے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمارے دین یعنی نماز کیلئے پسند فرمایا تھا ۔ کہ نماز تو اسلام کی بزرگی اور دین کی درستی تھی ۔ لہذا ہم نے ابو بکررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیعت کرلی اور وہ اسکے لائق تھے ۔ ہم میں کسی نے اس بارے میں اختلاف نہ کیا ۔ یہ سب کچھ ارشاد فرماکر حضرت مولی علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے فرمایا: پس میں نے ابو بکر کو انکا حق دیا اور انکی اطاعت لازم جانی ۔ اور انکے ساتھ ہو کر انکے لشکروں میں جہاد کیا ۔ جب وہ مجھے بیت المال سے کچھ دیتے میں لے لیتا ۔ اور جب مجھے لڑائی پر بھیجتے میں جاتا اور انکے سامنے تاز یانے سے حد لگا تا ۔ پھر بعینہ یہ ہی مضمون امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم اور امیر المؤمنین
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی نسبت ارشاد فرمایا ۔ فتاوی رضویہ ۱۱/۱۴۳
(۳) خلیفہ قریشی ہی ہوگا
۱۸۱۷۔عن أنس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ
تعالیٰ علیہ وسلم : ألْأئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ ۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمام خلیفہ قریشی ہونگے ۔
دوام العیش ،۶۱ اراء ۃ الادب ، ۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع