30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تیسری حدیث کی سند میں محبوب بن ہلال مزنی ہے ۔
ذہبی نے کہا : یہ شخص مجہول ہے اور اسکی یہ حدیث منکر ہے ۔
چوتھی حدیث کی سند میں علاء بن یزید ثقفی ہے ۔
امام نودی نے خلاصہ میں فرمایا : اسکے ضعیف ہونے پر تمام محدثین کا اتفاق ہے ۔
امام بخاری و ابن عدی اور ابو حاتم نے کہا : وہ منکر الحدیث ہے ۔
ابو حاتم و دار قطنی نے کہا: متروک الحدیث ہے ۔
امام علی بن مدینی استاذ امام بخاری نے کہا : وہ حدیثیں دل سے گڑھتا تھا ۔
ابن حبان نے کہا: یہ حدیث بھی اسکی گڑھی ہوئی ہے ۔ اس سے چرا کر ایک شامی نے
بقیہ سے روایت کی ۔
ابو الولید طیالسی نے کہا : علاء کذاب تھا۔
عقیلی نے کہا: علاء کے سوا جس جس نے یہ حدیث روایت کی سب علا ہی جیسے ہیں یا
اس سے بھی بد تر ۔
ابو عمر وبن عبد العزیز نے کہا: اس حدیث کی سب سند یں ضعیف ہیں۔ اور دربارۂ احکام اصلاً حجت نہیں ۔ صحابہ میں کوئی شخص معاویہ بن معاویہ نام معلوم نہیں ابن حبان نے بھی
یونہی فرمایا : کہ مجھے اس نام کے کوئی صاحب صحابہ میںیاد نہیں ۔
ثانیاً ۔ فرض کیجئے کہ یہ احادیث اپنے طرق سے ضعیف نہ رہیں ۔ کما اختارہ الحافظ فی الفتح ۔ یابفرض غلط لذاتہ صحیح سہی ۔ پھر اس میں کیا ہے ۔ خود اسی میں تصریح ہے ۔ کہ جنازہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پیش نظر انور کر دیا گیا تھا۔ تو نماز جنازہ حاضر پر ہوئی نہ کہ غائب پر ۔ بلکہ طرز کلام مشیر ہے کہ نماز جنازہ پڑھنے کے لئے جنازہ سامنے ہونے کی حاجت سمجھی گئی ۔ جبھی تو حضرت جبرئیل نے عرض کی: حضور نماز جنازہ پڑھنا چاہیں تو زمین
لپیٹ دوں ۔ تاکہ حضور نماز پڑھیں ۔
وہابیہ کے امام شوکانی نے نیل الاوطار میں یہاں عجیب تماشا کیا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع