30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا: مدینہ میں معاویہ کا انتقال ہو گیا ۔ کیا حضور ان پر نماز جنازہ پڑھنا چاہتے ہیں ۔ سرکار نے ارشاد فرمایا : ہاں ،پس جبرئیل نے زمین پر اپنا پر مارا ۔ کوئی پیڑ یا ٹیلہ نہ رہا جو پست نہ ہو گیا ہو ، اور ان کا جنازہ حضور کے سامنے
بلند کیا گیا ۔ یہا ں تک کہ پیش نظر اقدس ہو گیا ۔ اس وقت حضور نے ان پر نماز پڑھی ۔
۱۰۸۰۔عن أنس رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : ان جبرئیل علیہ السلام اتی النبی
صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فقال : یا رسول اللہ ! ہل لک ان تصلی علیہ فا قبض
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۰۷۹۔ باب الصلوۃ علی المیت الغائب، ۴/۵۱
۱۰۸۰۔ الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ للعسقلانی، ۳/۴۳۷
لک الارض، قال : نعم، فصلی علیہ ۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ الصلوۃ والسلام حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ معاویہ پر نماز جنازہ پڑھنا چاہتے ہیں تو میں آپ کے لئے زمین سمیٹ دوں ۔ فرمایا : ہاں
حضرت جبرئل نے ایسا ہی کیا ۔ اس وقت حضور نے انپر نماز پڑھی۔
{۵} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
اولاً۔ ان تمام احادیث کو ائمہ حدیث عقیل ، ابن حبان، بیہقی ، ابو عمر وابن عبدالبر ،
ابن جوزی ، نووی ، ذہبی ، اور ابن الہمام وغیرہم نے ضعیف بتایا ۔ پہلی دو حدیثوں کی سند بقیہ بن ولید مدلس ہے اور اس نے عنعنہ کیا ۔ یعنی محمد بن زیاد سے اپنا سننا نہ بیان کیا بلکہ کہا ۔ابن
زیاد سے روایت ہے ۔ معلوم نہیں راوی کون ہے ۔ بہ اعلہ المحقق فی الفتح ۔
ذہبی نے کہا : یہ حدیث منکر ہے ۔ نیز اسکی سند میں نوح بن عمر ہے ۔
ابن حبان نے اسے اس حدیث کا چور بتایا ۔ یعنی ایک سخت ضعیف شخص اسے حضرت
انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتا تھا ۔ اس نے اس سے چرا کر بقیہ کے سر باندھی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع