30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۷۶۲۔ شرح معانی الآثار ، للطحاوی ، ۲/ ۳۲۸ ٭
فرمایا: ہرے مٹکوں، تونبوںاورلکڑی کے شراب والے برتنوں میں نبیذ استعمال نہ کرو، ہاں مشکیزوں میںنبیذ بنا کرپی سکتے ہو ۔ تو انہوں نے کہا تھا: یا رسول اللہ !اگر مشکیزوں میں رکھے رہنے کیوجہ سے نبیذ میں تیزی آجائے تو کیا کریں؟ فرمایا: اس میں پانی شامل کرلو ۔ تیسری یا
چوتھی مرتبہ میں ان سے فرمایا: کہ اسکو بہا دو۔ ۱۲م
۱۷۶۳۔ عن أبی القموص زید بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ عن احدوفد عبد القیس او قیس بن النعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہما انہم سألوہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عن الاشربۃ فقال: لَا تَشْرِبُوْا فِی الدُّبَّآئِ وَلاَ فِی النَّقِیْرِ ، وَاشْرَبُوْا فِی السَّقَآئِ
الْحَلاَلِ الْمُؤکَا عَلَیْہَا ، فَاِنِ اشْتَدَّ مِنْہُ فَأکْسِرُوْہُ بِالْمَآئِ ، فَاِنَّ أعْیَاکُمْ فَأھْرِ یْقُوْہُ۔
فتاوی رضویہ ۱۰/۶۳
حضرت ابو قموص زید بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وفد عبدالقیس کے صاحب یا قیس بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ وفد عبد القیس نے حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے نبیذ وغیرہ رقیق اشیاء کے پینے کے سلسلے میں پوچھا تو فرمایا: تو نبے او رلکڑی کے برتن میں مت پیو ۔ اور صاف ستھرے مشکیزہ سے پیو جسکا منہ باندھ کر رکھا جاتا ہے۔ اگر اس میں رکھنے کی وجہ سے تیزی پیدا ہو جائے تو پانی کے اس کے ذریعہ اس کے جوش کو ختم کرو پھر اگر پانی
کے ذریعہ بھی تیزی ختم نہ ہو تو اسکو بہاد و ۔۱۲م
۱۷۶۴۔ عن أبی رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : ان عمر بن الخطاب رضی
اللہ تعالیٰ عنہ قال : اذا خشیتم من نبیذ شدتہ فاکسروہ بالمائ۔
حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضر ت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جب تمہیں نبیذ کی تیزی سے خطرہ ہو تو پانی سے اسکی تیزی ختم
کرلو۔ ۱۲م
۱۷۶۵۔عن سعید بن المسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ یقول : تلفّت ثقیف عمر بن
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع