30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسباب نزول قرآن میں نقل فرمائی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۰۷۲۔ المسند لاحمد بن حنبل، ۴/۴۴۶ ٭ مجمع الزوائد للہیثمی، ۳/۳۹
کنز العمال للمتقی، ۳۴۴۳۲، ۱۲/۱۵۰ ٭ تاریخ بغداد للخطیب، ۵/۲۳۵
۱۰۷۳۔ الصحیح لابی عوانۃ ، ٭
۱۰۷۴۔عن عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال : کشف للنبی
صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عن سریرالنجاشی حتی رأہ و صلی علیہ ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لئے نجاشی کا جنازہ ظاہر کر دیا گیا تھا ۔ حضورنے اسے دیکھا اور اسپر نماز
پڑھی۔
{۳} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
نجاشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال دارالکفر میں ہوا ۔ وہاں ان پر نماز نہ ہوئی تھی لہذا حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہاں پڑھی ۔ اسی لئے امام ابو داؤد نے اپنی سنن میں اس حدیث کے لئے یہ باب وضع کیا کہ’’ الصلوۃ علی المسلم یموت فی بلا د الشرک ‘‘ ۔
۱۰۷۵۔عن أبی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نعی للناس النجاشی فی الیوم الذی مات فیہ و خرج بہم الی المصلی
فصف بہم وکبرا ربع تکبیرات ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو نجاشی کے انتقال کی خبر اسی دن دی جس دن انتقال ہوا صحابہ کرام کو لیکر
مصلی پر تشریف لائے اور صحابہ کی صفیں قائم فرما کر چار تکبیریں کہیں ۔
اب بھی خصوصیت نجاشی ماننے سے چارہ نہ ہوگا ۔ جبکہ اور موتیں بھی ایسی ہوئیں اور نماز غائب کسی پر نہ پڑھی گئی ۔ نیز بعض کو انکے اسلام میں شبہ تھا یہاں تک کہ بعض نے کہا :
حبشہ کے ایک کافر پر نماز پڑھی گئی ۔ لہذا اس نماز سے مقصود انکی اشاعت اسلام تھی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع