30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الصحیح لمسلم ، کتاب الجنائز ، ۱/۳۰۹
التمہید لابن عبد البر، ۶/۳۲۵ ٭ مجمع الزوائد للہیثمی، ۳/۳۸
المصنف لابن ابی شیبۃ ، ۱۴/۱۵۴ ٭ تاریخ بغداد للخطیب، ۵/۲۳۵
جمع الجوامع للسیوطی، ۶۱۳۴ ٭
الثانی او الثالث۔
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نجاشی شاہ حبشہ حضرت اصمحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر نماز پڑھی توہم نے
آپ کے پیچھے صفیں قائم کیں میں دوسری یا تیسری صف میں تھا ۔
(۵) حضور کا غائبانہ نماز پڑھنا آپکی خصوصیات سے ہے
۱۰۷۲۔عن عمران بن حصین رضی اللہ تعالی ٰ عنہ وعن الصحابۃ جمیعا
رضی اللہ تعالیٰ عنہم قالوا: ان النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال : ان اخاکم النجاشی تو فی فقو موا صلوا علیہ ، فقام رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و صفوا خلفہ فکبر اربعا وہم لا یظنون الا ان جنازۃ بین یدیہ ۔
حضرت عمران بن حصین ودیگر صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارا بھائی نجاشی انتقال کر گیا ہے اٹھو اس پر نماز پڑھو۔ پھر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ۔ صحابہ نے پیچھے صفیں باندھیں ۔ حضور نے چار تکبیر یں کہیں ، صحابہ کو یہ ہی ظن تھا کہ انکا جنازہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے ہے ۔
۱۰۷۳۔عن عمران بن حصین وعن الصحابۃ جمیعا رضی اللہ تعالیٰ عنہم قالوا ، الی ان قال : فصلینا خلفہ ونحن لا نری الا ان الجنازۃ قدا منا۔
حضرت عمران بن حصین ودیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے حدیث مذکور مروی ہے یہاں تک کہ حضرت عمران نے فرمایا : ہم نے حضور کے پیچھے نماز پڑھی اور ہم یہ ہی اعتقاد
کرتے تھے کہ جنازہ ہمارے آگے موجود ہے ۔
{۲} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
یہ دونوں روایات صحیح عا ضد قوی ہیں اس حدیث مرسل اصولی کی کہ امام واحدی نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع