30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مشکل الآثار للطحاوی ، ۱/ ۴۷۰ ٭ شرح معانی الآثار للطحاوی ، ۳/ ۱۳۳
فتح الباری للعسقلانی ، ۱۱/ ۵۷۹ ٭ الجامع الصغیر للسیوطی ، ۲/۵۴۴
۱۷۲۰۔ الصحیح لمسلم ، کتاب النذر ۲/ ۴۵
الجامع للترمذی ، باب ما جاء ان لا نذر فی معصیۃ ، ۱/ ۱۸۴
السنن لا بی داؤد ، ایمان باب من ر ای علیہ کفارہ اذا کان فی لعقیہ ، ۲ /۴۶۷
السنن لا بن ماجہ ، باب النذر المعصیۃ ، ۱/۱۵۵
مشکوۃ المصابیح للتبریزی ، ۳۴۳۵ ٭ تلخیص الحبیر لا بن حجر ، ۴/ ۱۷۵
المسند لا حمد بن حنبل ، ۱/ ۱۲۹ ٭ مجمع الزوائد للہیثمی ، ۴/ ۱۸۷
المطالب العالیۃ لابن حجر، ۷۴۵ ٭ التمہید لابن عبد البر، ۱۰/۲۶۷
الدر المنثور للسیوطی، ۱/۲۸۸ ٭ کنز العمال للمتقی، ۴۶۷۹، ۱۶/۷۱۳
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:لَانَذَرَ فِی مَعْصِیَۃٍ ، وَکَفَّارَتُہٗ کَفَّارَۃ ُیَمِیْنٍ ۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:معصیت کی نذر جائز نہیں۔ او ر اسکا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔
فتاوی رضویہ حصہ دوم ۹/۳۶
(۵) نذرسے تقدیر کا لکھا نہیں ٹلتا
۱۷۲۱۔ عن أبی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ
علیہ وسلم : لَا تَنْذِرُوْا ، فَاِنَّ النَّذَرَ لَایُغْنِی مِنَ الْقَدْرِ شَیْأً، وَاِنَّمَا یُسْتَخْرَجُ بِہٖ مِنَ
الْبَخِیْلِ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نذر مت مانو کہ نذر تقدیر الہی کو نہیں ٹالتی۔ ہاں البتہ اسکے ذریعہ فقط اتنا ہوتا ہے
کہ بخیل سے مال نکال لیا جاتا ہے
{۱} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
مسلمانوں پر لازم کہ اپنی نذریں پوری کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے
نذر ماننے سے منع نہیں فرمایابلکہ اسکی وفا کا حکم دیا۔ ہاں یہ سمجھنا کہ نذر ماننے سے تقدیر الہی بدل جائیگی ۔ جو نعمت نصیب میں نہیں مل جائیگی۔ جو بلا مقدر میں ہے وہ ٹل جائیگی۔ یہ اعتقاد فاسد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع