30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اتحاف السادۃ للزبیدی، ۵/۵۰۳ ٭ شرح السنۃ للبغوی، ۸/۱۹۴
المغنی للعراقی، ۲/۸۳ ٭ کنز العمال للمتقی، ۱۵۰۴۷، ۶/۱۰۵
فتح الباری للعسقلانی، ۴/۴۸۳ ٭ المطالب العالیۃ لابن حجر ، ۱۳۸۴
لائق نہیں۔ یا قابل تقسیم ہو تو جد ا کرکے دے۔ مثلًا دس آتے تھے وہ دیکر ایک روپیہ احساناً الگ دیا۔ تو ان صورتوں میں یہ زیادتی حلال ہو جائیگی۔ اور اگر قابل تقسیم تھی اور یونہی مخلوط ومشاع
دی۔ مثلًا دس آتے تھے گیارہ یکمشت دئے۔ دس آتے ہیں او رایک احساناً ۔ تو نہ ہبہ صحیح ہوگا اور
نہ لینے والا اس زیادت کا مالک۔ فتاوی رضویہ ۷/۹۰
(۸) قرضدار کو مہلت دینے پر اجر
۱۷۱۳۔ عن أبی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ
علیہ وسلم :مَنْ نَفَّسَ عَنْ غَرِیْمِہٖ أوْ مَحٰی عَنْہُ کَانَ فِی ظِلَلِ الْعَرْشِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: جو اپنے قرض دار کو مہلت دے یا قرض معاف کردے وہ قیا مت کے دن عرش
کے سایہ کے نیچے ہوگا۔
(۹) قرض معاف کرنے والا اجر عظیم کا مستحق
۱۷۱۴۔ عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:کَانَ فِی الْاُمَمِ السَّابِقَۃِ رَجُلٌ عَاصٍ یَمْحُو عَنِ الْمُسْتُقْرِضِیْنَ ،
اِذَا مَاتَ عَفَااللّٰہُ عَنْہُ وَقَالَ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ : اِذَا کَانَ یَعْفُوْ فَأنَا أحَقُّ بِذٰلِکَ مِنْہُ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگلی امتوں میں ایک گنہگار شخص تھا جو لوگوں کے قرض معا ف کردیا کرتاتھا۔ جب اسکا انتقال ہو ا تو اللہ تعالیٰ نے اسکو بخش دیا۔ او رپروردگار عالم نے فرمایا: جب
وہ معاف کردیا کرتا تھا تو میں اس سے زیادہ حقدار ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع