30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
التمہیدلابن عبدالبر، ۴/۲۴۴ ٭ مشکوۃ المصابیح للتبریزی، ۲۱۵۷
حلیہ الاولیاء لابی نعیم ، ۸/۳۸۵ ٭ شرح السنۃ للبغوی، ۳/۴۳۱
اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : لاَ تُصَلُّوا صَلٰوۃً فِی یَوْمِ مَرَّتَیْنِ ۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کوئی نماز ایک دن میں دو بار نہ پڑھو ۔
۱۰۶۹۔ عن أمیر المؤمنین عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : لا یصلی بعد صلاۃ مثلہا۔ فتاوی رضویہ ، ۴/ ۴۸
امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔فرماتے ہیں : کسی نماز کے بعد اس کے مثل نماز نہ پڑھی جائے ۔
{۱} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
اس حدیث کے متعلق امام محمد نے فرمایا : یہ مرفوع ہے ۔ یہ حدیثیں بھی نماز جنازہ کی نفی تکرار پر صریح دال ہیں ۔ حدیث ثانی تو عام مطلق ہے اور اول میں ’فی یوم‘ کی قید اس نظر سے کہ مثلا ظہر کی نماز وں کی تکرار سے تو آپ ہی مکرر ہوگی ۔ کل کی ظہر اور آج کی کہ ان کا سبب وقت ہے جب وقت دوبارہ آیا دوبارہ آئی ۔ مگر ایک ہی سبب یعنی ایک ہی وقت میں مکرر نہ ہوگی ۔نماز جنازہ کا سبب مسلم میت ہے۔ جب میت متکرر ہو نماز متکرر ہوگی ۔ مگر ایک ہی میت پر متکرر نہیں ہو سکتی ۔ فتاوی رضویہ ۴/ ۴۸
دوسری بات یہ کہ اگر نماز جنازہ میں تکرار کی اجازت دیتے ہیں تو لوگ تسویف وکسل کی گھاٹی میں پڑینگے ۔ کہیں گے جلدی کیا ہے ،اگر ایک نماز ہو چکی ہم دوبارہ پڑھ لیں گے ، اس تقدیر پر اگر لوگوں کا انتظار کیا جائے تو جنازہ کو دیر ہوتی ہے ۔ اور جلدی کیجئے تو جماعت ہلکی رہتی ہے اور دونوں باتیں مقصود شرع کے خلاف ۔ لا جرم مصلحت شرعیہ اسی کی مقتضی ہوئی کہ تکرار کی اجازت نہ دیں ۔ جب لوگ جانیںگے کہ اگر نماز ہو چکی تو پھر نہ ملے گی اور ایسے افضال عظیمہ ہاتھ سے نکل جائینگے تو خواہی نخواہی جلدی کرتے حاضرآئیںگے ۔ اور میت
کے فائدے اوراپنے بھلے کے لئے جلد جمع ہو جائینگے اور شرع مطہرکے دونوں مقصد با حسن
وجوہ رنگ ظہور پائینگے۔ فتاوی رضویہ ۴/ ۵۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع