30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتح الباری للعسقلانی، ۴/۴۸۲ ٭ تاریخ اصفہان لابی نعیم ، ۱/۱۸۸
۱۷۱۲۔ عن أبی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: ان رجلا تقاضارسول اللہ صلی
اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فأغلظ لہ فہم بہ أصحابہ فقال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:دَعُوْہُ فَاِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا، وقال: اِشْتَرُوْالَہٗ بَعِیْرًا فَأعْطُوْہُ اِیَّاہُ ، فطلبوہ فلم یجدوا الاسنا أفضل من سنہ فقال:اِشْتَرُوْہُ فَأعْطُوْہُ اِیَّاہُ، فَاِنَّ خَیَرَکُمْ
أحْسَنُکُمْ قَضَآئً ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ایک شخص نے اپنے قرض کا تقاضا کیا جس میں وہ سختی سے پیش آیا ۔ تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے اسکی اس سخت گفتگو کا جواب دینا چاہا جس سے سرکار نے روک دیا اور فرمایا: حقدار کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کچھ کہے۔ پھر سرکار نے ارشاد فرمایا: اسکے لئے اونٹ خریدو او راس کو دیدو۔ صحابہ کرام نے تلاش کیا لیکن اس عمر کا نہ ملا بلکہ ا س سے عمر وقیمت میں زیادہ مل
رہا تھا۔ فرمایا: اسی کو خریدکر اسے دیدو۔ پھر فرمایا: تم میںسب سے بہتر وہ ہے جو قرض کی ادائیگی بہتر طریقے پر کرے۔
{۲} امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
جبکہ قرض پر زیادہ دینا لفظا موعود،نہ عادۃ معہود ، تو معنیٔ ربا یقینا مفقود خصوصا ًجبکہ خود لفظوںمیںنفی رباکا ذکر موجود ، بلکہ یہ صرف ایک نوع احسان وکرم ومروت ہے۔ اور بیشک
مستحب وثابت بہ سنت، کما فی الاحادیث المذکورۃ۔
مگر محل اسکا وہاں ہے کہ یا تو وہ زیادت قابل تقسیم نہ ہو ۔ مثلا ساڑھے نو روپے آتے تھے دس پورے دئے کہ اب بقدر نصف روپے کی زیادتی ہے اور ایک روپیہ دوپارہ کرنے کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۷۱۲۔ الجامع للترمذی ، باب ما جاء فی استقراض البعیر ، ۱/۱۵۸
السنن لابن ماجہ ، باب حسن القضائ، ۲/۱۷۶
المسند لاحمد بن حنبل، ۲/۴۱۶ ٭ السنن الکبری للبیہقی، ۵/۳۵۱
مجمع الزوائد للہیثمی، ۴/۱۳۹ ٭ التمہید لابن عبد البر، ۴/۶۸
مشکوۃ المصابیح للتبریزی، ۲۹۰۶ ٭ تلخیص الحبیر لابن حجر ، ۳/۳۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع