30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۷۱۰۔عن جابربن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال: اتیت النبی صلی
اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وہو فی المسجد ، قال مسعر اراہ قال: ضحی ، فقال: صل
رکعتین، وکان لی علیہ دین فقضانی وزادنی۔
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو ا جبکہ آپ مسجد نبوی شریف میںتشریف فرماتھے۔ حضرت مسعر بن کدام رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیںکہ مجھے یا د پڑتاہے کہ حضرت جابر نے یہ بھی کہاکہ چاشت کا وقت تھا سرکارنے فرمایا: دو رکعت نماز پڑھو ۔ حضرت جابر کہتے ہیں کہ میرا
سرکارکی طرف کچھ قرض تھاتو آپ نے ادا فرمایا اور کچھ زیادہ بھی عطا فرمایا۔ ۱۲م
۱۷۱۱۔ عن أبی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: کان لرجل علی النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سن من الابل فجاء ہ یتقاضاہ فقال: اعطوہ فطلبوا سنہ فلم یجدوا لہ الاسنا فوقہا فقال: اعطواہ فقال:او فیتنی اوفی اللہ لک ، قال النبی صلی
اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: اِنَّ خَیَارَکُمْ أحْسَنُکُمْ قَضَآئً۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی جانب ایک شخص کااونٹ قرض میں آرہا تھا۔ تو وہ تقاضا کرنے آگیا۔ سرکار نے فرمایا: ادا کردو ۔ صحابہ کرام نے تلاش کیا لیکن اس عمر کا اونٹ نہیں ملا بلکہ اس سے زیادہ عمر والاملا ۔ سرکار نے فرمایا: وہی دیدو ۔ وہ قرض خواہ کہنے لگا۔ آپ اگر مجھے پورا عطا فرمائیںگے تو اللہ تعالیٰ آپکو بھی ایسا ہی کامل عطا فرمائیگا ۔ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیشک تم میں
بہتر وہ ہے جو قرض کی ادائیگی اچھے طور پر کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۷۱۰۔ الجامع الصحیح للبخاری، باب حسن القضائ، ۱/۳۲۲
الصحیح لمسلم ، باب جواز افتراض الحیوان ، ۲/۳۰
۱۷۱۱۔ الجامع الصحیح للبخاری، باب حسن القضاء ۱/۳۲۲
الصحیح لمسلم ، باب جواز اقتاض الحیوان ، ۲/۳۰
السنن للنسائی، الترغیب فی حسن القضائ، ۲/۲۰۳
التفسیر للبغوی، ۱/۳۰۳ ٭ المسند لاحمد بن حنبل ، ۲/۳۹۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع