30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وقت ہو سکتی ہے جب اسکے بغیر کوئی طریقہ بسر اوقات کا نہ ہو،نہ کوئی پیشہ جانتا ہو ،نہ نوکری ملی ہے جس کے ذریعہ سے دال روٹی اور موٹا کپڑا محتاج آدمی کی بسر اوقات کے لائق مل سکے۔ ورنہ اس قدر پا سکتاہے توسودی روپے سے تجارت پھر وہی تونگری کی ہوس ہوگی نہ ضرورت قوت۔ رہا ادا ئے قرض کی نیت سے سودی قرض لینا اگر جانتاہے کہ اب ادا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۶۸۷۔ المسند الحمد بن حنبل ، ۵/۲۲۵
نہ ہوا تو قرض خواہ قید کرائے گا۔ جس کے باعث بال بچوں کو نفقہ نہ پہونچ سکے گا ۔اور ذلت وخواری علاوہ اور فی الحال اسکے سوا کوئی شکل اداکی نہیں تو رخصت دی جائیگی کہ ضرورت متحقق ہولی ۔ حفظ اور تحصیل قوت کی ضرورت ہو تو خود ظاہر ۔ اور ذلت ومطعونی سے بچنا بھی ایسا امر
ہے کہ جسے شرع نے بہت مہم سمجھا اور اسکے لئے بعض محظورات کو جائز فرمایا۔
مثلا ًشر یر شاعر جو امراء کے پاس قصائد مدح لکھ کر لے جاتے ہیں کہ خاطر خواہ انعام نہ پائیں تو ہجو سنائیں ۔ انہیں اگرچہ وہ انعام لینا حرام ہے اور جس چیز کا لینا جائز نہیں دینا بھی روا نہیں۔ پھر یہ لوگ کہ اپنی آبرو بچانے کو دیتے ہیں خاص رشو ت دیتے ہیںاوررشوت دینا صریح حرام ہے ۔ بایں ہمہ شرع نے حفظ آبرو کیلئے انہیں دینا دینے والے کے حق میں روا فرمایا اگرچہ
لینے وا لے کو بد ستو ر حرام محض ہے۔ فتاوی رضویہ ۷/۸۳
(۴) سود کھانا زنا سے بدتر کام ہے
۱۶۸۸۔عن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: مَنْ أکَلَ دِرْھَمًا مِنَ رِّبٰوا فَہُوَ مِِثْلُ ثَلٰثٍ وَّثَلٰثِیْنَ زَنِیَّۃٍ ،
وَمَنْ نَبَتَ لَحْمُہٗ مِنْ سُحْتٍ فَالنَّارُ أوْلیٰ بِہٖ ۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک درہم سود کھانا تینتیس بار زنا کے برابر ہے، او رجسکا گوشت حرام
سے بڑھے تو نار جہنم اسکی زیادہ مستحق ہے ۔
۱۶۸۹۔عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع